تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 208 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 208

تاریخ احمد بیت جلد ۵ 204 ست ترھواں سال نہیں رہ سکتے اس حقیقت سے یہ حادثہ اور بھی غمناک ہو جاتا ہے کہ آپ ابھی نوجوان یعنی صرف چالیس سال کی عمر کے تھے ہم آپ کی جماعت نیز آپ کے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے۔پنجم ایک اور سبق اس خبر سے جماعت کو نیہ حاصل ہوا کہ اسے اپنے خبر رسانی کے انتظام کو مضبوط کرنے کا خیال پیدا ہوا چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو توجہ دلائی کہ :- دفاتر ایسا انتظام کریں کہ جماعتیں مختلف حلقوں میں تقسیم ہو جائیں اور ارد گرد کی جماعتیں ضرورت کے موقع پر وہاں سے اطلاع حاصل کریں۔مثلاً لاہور، دہلی، راولپنڈی، پشاور ، جالندھر ملتان و غیره مقامات پر یہاں سے اطلاع دیدی جائے اور ہر جماعت اپنے قریبی مرکز سے معلوم کرلے اگر ہمارا خبر رسانی کا انتظام ایسا ہو تا تو تین جون کو ہی ہر جگہ اطلاع مل جاتی لیکن اب تو یہ ہوا کہ بعض لوگوں کو ایسی تار دیئے۔۴۸۰۴۸ گھنٹے ہو گئے لیکن کوئی جواب نہ ملا کیونکہ تار والے آہستہ آہستہ اور باری باری کام کر رہے تھے ادھر دوستوں کو اس قدر پریشانی تھی کہ کئی ایک کے دل گھٹنے شروع ہو گئے اور بعض کو تو باوجودیکہ اطمینان ہو چکا تھا کہ یہ خبر غلط ہے مگر انہیں دھڑ کے کی بیماری ہو گئی اگر ایسا انتظام ہو تاکہ انہیں وقت پر اطلاع مل سکتی تو ان کی صحت پر ایسا نا گوار اثر نہ پڑ تا پس دفاتر کو چاہئے ایسا انتظام کریں کہ تمام جماعتوں کو فورا اطلاع پہنچائی جاسکے۔بالآخر یہ بتانا ضروری ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالٰی نے اس موقعہ پر جماعت کو یہ اہم وصیت فرمائی کہ : جہاں خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو اخلاص کے اظہار کا موقعہ دیا وہاں یہ بھی بتادیا کہ انسان آخر انسان ہی ہے خواہ وہ کوئی ہو اور ایک نہ ایک دن اسے اپنے مخلصین سے جدا ہو نا پڑتا ہے اس بات کا احساس بھی خدا تعالیٰ نے جماعت کو کرا دیا اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ خلیفہ سے جماعت کو جو تعلق ہے وہ جماعت ہی کی بہتری اور بھلائی کے لئے ہے اور جو بھی خلیفہ ہو اس سے تعلق ضروری ہے یا درکھو اسلام اور احمدیت کی امانت کی حفاظت سب سے مقدم ہے اور جماعت کو تیار رہنا چاہئے کہ جب بھی خلفاء کی وفات ہو جماعت اس شخص پر جو سب سے بہترین خدمت دین کر سکے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے اور اس سے الہام پانے کے بعد متفق ہو جائے گی انتخاب خلافت سے بڑی آزمائش مسلمانوں کے لئے اور کوئی نہیں یہ ایسی ہے جیسے باریک دھار پر چلنا ذرا سا قدم لڑکھڑانے سے انسان دوزخ میں جاگرتا ہے غرض انتخاب خلافت سب سے بڑھ کر ذمہ داری ہے جماعت کو اس بارے میں اپنی ذمہ داری پہچانی چاہئے"۔"