تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 198 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 198

یت - جلد ۵ 194 خلافت ثانیہ کا ستر جوان سال من حیث الجماعت اس تباہ کن تحریک سے علیحدہ رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ساری جماعت میں صرف ایک مثال منٹگمری کی تھی جہاں ایک احمدی نے کمزوری دکھائی اور حضور کی خدمت میں خط لکھا۔کہ یہاں بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے کانگریسی تحریک کی علی الاعلان مخالفت کی تو لوگ ناراض ہو جائیں گے۔حضور نے ۳۰ مئی ۱۹۳۰ء کو خطبہ جمعہ میں اس خط کا ذکر کرتے ہوئے سخت خفگی اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :- " مجھے یہ خط پڑھ کر سخت حیرت ہوئی کیونکہ میں نہیں سمجھ سکتا مومن بزدل بھی ہو سکتا ہے۔۔۔کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے جبرو تشدد اور ظلم ہو رہا ہو۔مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے عملی صورت اختیار کر رہے ہوں اور ہم اس وجہ سے چپ چاپ بیٹھے رہیں کہ لوگ ناراض ہو جائیں گے لوگ ہمارے دوست کس دن ہوئے تھے اور پھر ہم نے کب لوگوں کی پوجا کی کہ یہ خیال کریں آج وہ ہمارے دوست ہیں۔۔۔احمدیوں کو یا درکھنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے کام میں سستی کر کے مقامی ہندو مسلمانوں کی مخالفت سے بچ بھی گئے تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور دکھ پیدا کر دے گا۔تاوہ غافل نہ ہو جائیں۔مومن کبھی بزدل نہیں ہو تا اس لئے ایسے خیالات دل میں نہ لانے چاہئیں۔اس تحریک سے مسلمانوں کا صریح نقصان ہو رہا ہے اور اگر اسی طرح ہوتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ان کی وہی حالت ہوگی جو چین میں ہوئی۔۔۔یاد رکھو ہر وہ پتھر جو خداتعالی کی بات منوانے اور مسلمانوں کی ہمدردی کرنے کی وجہ سے پڑتا ہے وہ پتھر نہیں پھول ہے۔ایسے پتھر مبارکبادی کے پھول ہیں جو خد اتعالیٰ پھینکتا ہے اس لئے ان سے ڈرنا نہیں بلکہ خوش ہونا چاہئے کہ ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ اپنے بندے کو عزت دیتا ہے۔ہم جو کچھ کرتے ہیں محض مسلمانوں کے فائدے کے لئے کرتے ہیں اگر وہ آج اس بات کو نہیں سمجھتے تو آئندہ نسلیں یقینا یہ کہنے پر مجبور ہوں گی کہ ایسے نازک موقعہ پر احمدیوں نے ان کی حفاظت کی پوری پوری کوشش کی "۔سول نافرمانی کے نتیجہ میں المسیح الثانی کا مکتوب وائسرائے ہند کے نام حکومت کی طرف سے حضرت خلیفۃ ا گرفتاریاں شروع ہو گئیں جس پر ملکی فضا بالکل بدل گئی اور شورش شہروں سے نکل کر دیہات تک پھیل گئی۔اس اہم مرحلہ پر حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲ مئی ۱۹۳۰ء کو وائسرائے ہند کے نام ایک مفصل خط لکھا جس میں ان کے سامنے قیام امن کی غرض سے سات اہم تجاویز پیش کیں :- ا ملک کی تمام امن و اعتدال پسند جماعتوں کے نمائندوں کی کانفرنس بلا کر مشورہ لیا جائے کہ کونسا