تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 197
حمدیت جلد ۵ 193 خلافت عثمانیہ کا سترھواں سال مگر یہ بھی تو نہیں ہو سکتا کہ وہ ملک کی حریت اور آزادی کے لئے کچھ نہ کریں لیکن اگر وہ اس کے لئے آواز اٹھاتے ہیں۔تو کانگریس کے حامی اور مددگار سمجھے جاتے ہیں اور اگر خاموش رہتے ہیں تو ملک کے دشمن قرار پاتے ہیں۔مسلمانوں کی اس مشکل کا ازالہ بھی گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے مگر افسوس ہے کہ گورنمنٹ نے اس کے متعلق کچھ نہیں کیا۔اس وقت چاہئے تھا کہ گورنمنٹ مسلمانوں کو یقین دلاتی کہ ہم تمہارے جائز حقوق تمہیں دینے کے لئے تیار ہیں یا کم از کم اس بات کا اقرار کرتی کہ کانگریس سے مسلمانوں کا علیحدہ رہنا اس لئے نہیں کہ وہ سکتے ہیں اور کچھ کر نہیں سکتے بلکہ اس لئے ہے کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں اور قانون کے اندر رہ کر ملک کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں"۔اس ضمن میں مسلمانوں کے سامنے بہترین صورت یہ رکھی کہ :- ”وہ قانون شکنی کا مقابلہ کریں۔اور ادھر گورنمنٹ سے اپنے مطالبات پورے کرانے پر قانون کے اندر رہ کر زور دیں اور ثابت کر دیں کہ ہم ایسے ہی ملک کی آزادی کے خواہاں ہیں جیسے ہندو اور اس بات کو جاری رکھیں جب تک اپنے حقوق حاصل نہ کر لیں"۔خطبہ کے آخر میں حضور نے جماعت احمدیہ کے لئے اعلان فرمایا کہ : " ہر جگہ اور ہر علاقہ کی جماعتیں قانون شکنی کا مقابلہ کریں۔اور اس طرح گورنمنٹ کو امن قائم کرنے میں مدد دیں مگر اس کے ساتھ ہی صاف طور پر کھول کر کہدیں کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہماراملک غلام رہے ہم اپنے اور مسلمانوں کے حقوق کا مطالبہ کرتے رہیں گے اور انہیں حاصل کریں گے۔حضور کا یہ خطبہ اردو اور بنگالی میں ٹریکٹ کی صورت میں بکثرت شائع کیا گیا۔اس کے علاوہ حکومت ہند پر زور دیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے مطالبات پورا کرنے کا اعلان کرے۔اسی سلسلہ میں ۴ جون ۱۹۳۰ء کو پنجاب کے مسلمان زمینداروں کا ایک وفد سر نواب ملک خدا بخش صاحب کی صدارت میں وائسرائے ہند لارڈارون سے بھی ملا جس میں جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب شامل ہوئے۔وائسرائے نے وفد کو یقین دلایا کہ مسلمانان پنجاب کو اس بات کا خوف نہ کرنا چاہئے کہ ان کے جائز مطالبات منظور ہوئے بغیر رہ جائیں گے۔اس موقعہ پر جماعت احمدیہ نے ملک کے طول و عرض میں بحالی امن کے لئے جلسے منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ جو شاندار عملی جدوجہد کی وہ ایک بے مثال کارنامہ ہے ملک کے جس گوشہ میں کہیں اکار کا احمدی بھی موجود تھاوہ بڑے سے بڑے خطرات کے مقابلہ کے لئے ڈٹ کر میدان میں آگیا احمدیوں نے نہ صرف شورش پسندوں کی ہمنوائی گوارا نہ کی بلکہ وہ اپنی مسلسل کو بخشش اور قربانی سے مسلمانوں کو