تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 196
192 خلافت عثمانیہ کا سترھواں سال لال نہرو پنڈت جواہر لال نہرو ، مسٹرسین ، مسٹر آئنگر ، ڈاکٹر ستیہ پال وغیرہ کو مطلوب ہے اسی طرح ہمیں بھی مطلوب ہے اور ہندوستان ویسا ہی ہمارا ملک ہے جیسا ان لوگوں کا ہے اور اپنے وطن کی محبت اور آزادی کا خیال اسی طرح ہمارے سینوں میں بھی موجزن ہے جس طرح ان کے سینوں میں ہے "۔حکومت وقت سے متعلق یہ نکتہ پیش فرمایا :- لیکن دوسری طرف ہم اس بات سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ ہمارا ملک ہندوستان انگریز کے ماتحت ہے۔۔۔۔وہ سترھویں صدی سے ہندوستان میں آئے اور انیسویں صدی سے بلکہ اٹھارھویں صدی سے ہی انہیں حکومت میں حصہ مل گیا۔اور اب وہ سارے ہندوستان پر قابض ہیں۔پس اس سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ قانون کے مطابق ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت قائم ہے۔اور کوئی دوسری حکومت جو انگریزوں کے منشاء اور سمجھوتہ کے بغیر قائم ہو وہ قانونی حکومت نہیں کہلا سکتی"۔ان حالات میں ایک طرف تو ہم کانگریس کی نیت پر حملہ کرنے اور اس کے مقصد کو برا کہنے کے لئے تیار نہیں اور دوسری طرف انگریزوں کا حکومت کا حق چلا آتا ہے اس کا انکار کرنے کے لئے تیار نہیں۔۔۔۔ان دونوں باتوں کے درمیان رستہ تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے پل صراط تیار کرنا اگر چہ یہ بہت مشکل کام ہے لیکن صحیح راستہ یہی ہے اور یہی خدا کے منشاء کے ماتحت ہے۔لیکن افسوس ہے کہ اس وقت یہ صحیح راستہ اختیار نہیں کیا جا رہا۔ایک طرف کانگریس کے لوگ ایک صحیح مقصد کے لئے ایسی کارروائیوں پر اتر آئے ہیں جو نہ آج مفید ہو سکتی ہیں نہ کل۔آزادی اچھی چیز ہے مگر وہ آزادی حاصل کرنے کا طریق جو ہمیشہ کے لئے غلام بنائے کبھی اچھا نہیں ہو سکتا۔کانگریس والے آزادی حاصل کرنے کے لئے ایسا ہی طریق اختیار کئے ہوئے ہیں جو ہندوستان کو ہمیشہ کے لئے غلام بنا دے گا اور وہ طریق قانون شکنی ہے۔۔۔اس کے مقابلہ میں ہم یہ نہیں کہتے کہ گورنمنٹ غلطی سے بری ہے اس کا اس رویہ بھی اتنا اچھا نہیں جتنا ہونا چاہئے تھا۔اسے سمجھنا چاہئے تھا کہ وہ باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں یہاں کے نہیں اس لئے ملک میں یہ خیال پیدا ہو نالازمی ہے کہ ملکی معاملات کے حل کرنے میں ہماری رائے بھی سنی جائے مگر اس کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی انگلستان میں اگر کوئی فساد ہو تو اس کے انسداد کے لئے حکومت لوگوں سے مشورہ کرتی اور ان کی کمیٹیاں بناتی ہے اور پھر طریق عمل تجویز کرتی ہے حالانکہ ملک ان کا اپنا ہو تا ہے حکومت ان کی اپنی ہوتی ہے مگر یہاں باہر کے آئے ہوئے غیروں پر حکومت کرنے والے اتنے فسادات کی موجودگی میں ملک سے پوچھتے تک نہیں کہ کیا کیا جائے۔غرض ایک طرف اگر کانگریس غلط طریق اختیار کئے ہوئے ہے تو دوسری طرف گورنمنٹ بھی غلطی کر رہی ہے اور مسلمانوں کے لئے بہت مشکل پیدا ہو گئی ہے مسلماں قانون شکنی نہ کریں اور نمک شبازی بھی نہ کریں