تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 195 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 195

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 191 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال (فصل دوم) ملکی شورش میں کانگریس اور آل انڈیا نیشنل کانگرس نے دسمبر ۱۹۲۹ء میں حکومت کے رویہ پر تنقید اور کامل آزادی کا نعرہ بلند کرنے کے بعد ۲۶ جنوری ۱۹۳۰ء کو یوم آزادی منایا اور ۶ اپریل ۱۹۳۰ء سیح طریق عمل کی راہنمائی گاندھی جی کی قیادت میں قانون نمک سازی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک میں سول نافرمانی کا آغاز کر دیا اور کلکتہ سے لیکر پشاور تک بغاوت کے شعلے بھڑک اٹھے گاندھی جی اور کانگریس نے پے در پے کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو اس شورش میں شامل کرنے پر آمادہ کرلیں۔اور گو مجلس احرار اور جمعیتہ العلماء کی مختصری جماعتیں کانگریس کے دوش بدوش شریک کار تھیں۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی مساعی کے نتیجہ میں مسلمان من حیث القوم اس تحریک سے الگ ہی رہے اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ پہلے ہمارے ساتھ تصفیہ حقوق کر کے ہمیں مطمئن کر دو اس کے بعد ہم ہر تحریک میں شامل ہونے کو تیار ہوں گے۔چنانچہ سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح نے ۲ مئی ۱۹۳۰ء کو خطبہ جمعہ کے ذریعہ اس سیاسی شورش پر مفصل تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس کی تحریک آزادی سے اصولی اور کلی ہمدردی کا اظہار کرنے کے باوجود کانگریس اور گورنمنٹ دونوں کے غلط رویہ پر بے لاگ تنقید کی اور مسلمانوں کے لئے عموماً اور جماعت احمدیہ کے لئے خصوصاً صحیح طریق عمل پیش کیا۔چنانچہ حضور نے کانگریس کی نسبت اس رائے کا اظہار فرمایا کہ :- کانگریس اپنی ذات میں ہمارے لئے کسی تکلیف اور رنج کا موجب نہیں وہ چند ایسے افراد کا مجموعہ ہے جو اپنے بیان کے مطابق ملک کی آزادی اور بہتری کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور کوئی عقلمند کوئی شریف کوئی باحیا اور کوئی انسان کہلانے کا مستحق انسان ایسے لوگوں کو بے قدری اور بے التفاتی کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔جو اپنے آپ کو اس لئے مصیبت میں ڈالے ہوئے ہوں کہ اپنے ملک اور اہل ملک کو آرام اور آسائش پہنچا ئیں اس لئے جس حد تک ان کے اپنے بیان اور ان کے اصول کا تعلق ہے ہمیں ان کے ساتھ کلی ہمدردی ہے اور جس مقصد اور مدعا کو لے کر وہ کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔ان کے حصول کی خواہش میں ہم کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔اور حریت جس طرح گاندھی جی پنڈت موتی