تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 189 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 189

تاریخ احمدیت جلد ۵ 185 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال ایک ڈچ قنصل قادیان میں ۱۵اپریل ۱۹۳۰ء کو مسٹرانڈ ریا ساڈچ قفصل قادیان آئے۔واپسی پر انہوں نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو ایک خط لکھا جس میں تحریر کیا۔میں نے قادیان میں نیکی کے سوا اور کچھ نہیں پایا۔سفر ہندوستان سے جو بہت سے اثرات میرے دل پر ہوئے ہیں ان میں سے خاص اثرات قادیان کے ہیں جنہوں نے میرے دل میں خاص جگہ حاصل کی ہے۔سب سے اول آپ لوگوں کی مہمان نوازی ہے جس سے میں مسرور ہوا۔اور میں آپ کا ممنون ہوں گا۔اگر آپ میرا شکریہ اپنے سب احباب کو پہنچا دیں۔خاص بات جو مجھ پر اثر کرنے والی ہوئی وہ ایک طبعی ایمان اور کچی برادری ہے جو الہی محبت سے پیدا ہو کر قادیان کو رسولوں کی سی ایک فضا بخش رہی ہے۔جو عیسائی حلقوں میں شاذ و نادر ہے۔( ترجمہ از ڈچ زبان) فتنہ اخبار "مباہلہ اور حادثہ بٹالہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے اخبار " مباہلہ " کے ذریعہ سے حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے خلاف جو نہایت ہی اشتعال انگیز اور حد درجہ دل آزار پراپیگنڈا شروع کیا جارہا تھا جو مارچ اپریل ۱۹۳۰ء میں تشویشناک صورت اختیار کر گیا۔چنانچہ مباہلہ والوں نے ۲۸ مارچ ۱۹۳۰ء کو عین اس وقت جبکہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے تھے مسجد اقصیٰ کی محراب کے پاس فساد برپا کرنے کا ارادہ کیا۔اس موقعہ پر بعض جوشیلے مقتدی مسجد کی کھڑکیوں سے پھاند کر وہاں پہنچ گئے تا ان کو کیفر کردار تک پہنچا ئیں مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بعض دوستوں کو قسمیں دے کر بھیجا کہ تمہیں بالکل ہاتھ نہیں اٹھانا ہو گا اور صرف اپنے دوستوں کو پکڑ کر لانا ہو گا۔یہ واقعہ ہزاروں آدمیوں کی موجودگی میں ہوا لیکن پولیس نے جو کار روائی کی وہ یہ تھی کہ حضرت میر قاسم علی صاحب اور مولوی عبد الرحمان صاحب فاضل و غیره) احمدی معززین کی ہزار ہزار روپیہ کی ضمانتیں طلب کیں۔اس واقعہ کے چند روز بعد انہوں نے جاہل عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے یہ چال چلی کہ ۱۳ اپریل ۱۹۳۰ء کی رات کو اپنے اخبار مباہلہ کے تمام فائل ، متعلقہ کاغذات نیز گھر اور دفتر کا تمام سامان محفوظ کر کے مکان کی ایک کوٹھڑی کو جہاں اسباب وغیرہ کچھ نہ تھا آگ لگا دی جس سے چند لکڑیاں جھلس گئیں۔مگر جماعت احمدیہ کے مخالف اخبارات وغیرہ میں یہ جھوٹی خبریں شائع کیں کہ ہمارا امکان نذر آتش کر دیا گیا ہے اور سارا سامان جلا دیا گیا ہے۔قادیان میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت کے تحت احمدی بے مثال صبر و تحمل کا نمونہ بنے ہوئے تھے۔اس لئے ان لوگوں نے یہ دیکھ کر کہ مرکز احمدیت میں بیٹھ کر ان کے لئے مزید شرارت پھیلانے کا موقعہ نہیں ہے۔بٹالہ میں اپنی شرارتوں کا اڈہ بنالیا اور مشہور کر دیا کہ احمدیوں نے انہیں