تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 181 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 181

تاریخ احمدیت جلد ۵ تیسرا باب (فصل اول) 177 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال ”ندائے ایمان" کے سلسلہ اشتہارات سے لے کر کتاب ”ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل کی اشاعت اور گول میز کانفرنس کے انعقاد تک خلافت ثانیہ کا سترھواں سال (جنوری ۱۹۳۰ء تا دسمبر ۱۹۳۰ء بمطابق رجب ۱۳۴۸ھ تا شعبان ۱۳۴۹ھ) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده الله نظام جماعت سے متعلق ایک اصولی ہدایت تعالے نے ۱۷ جنوری ۱۹۳۰ء کو نظام جماعت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ خلیفہ سے ہر ایک احمدی کو براہ راست تعلق ہے مگر ساتھ ہی فرمایا :- " یاد رکھنا چاہئے ہر ایک احمد کی ہر ایک بات جو مجھ تک پہنچانا چاہے پہنچا سکتا ہے سوائے اس بات کے جو دفتری لحاظ سے اس کی ذات کے متعلق ہو مثلاً اگر کوئی یہ لکھے کہ میری ترقی روک دی گئی ہے یا مجھے فلاں حق نہیں دیا گیا تو اس قسم کی باتوں پر میں اس وقت تک غور نہ کروں گا جب تک متعلقہ دفتر کے ذریعہ کا غذ نہ آئے لیکن اگر کوئی اس قسم کی بات ہو ( خدانخواستہ) کہ دفتر میں فلاں خیانت کرتا ہے یا قومی کام کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس قسم کی شکایت کو میں سنوں گا کیونکہ قوم کے ہر ایک فرد کا خواہ وہ کلرک ہو یا چپڑاسی فرض ہے کہ قومی حقوق کی حفاظت کرے جب تک خلافت قائم ہے ہر ایک احمدی کا براہ راست خلیفہ کے ساتھ تعلق ہے مگر دیکھو بعض معاملات میں اللہ تعالیٰ نے بھی حد بندی کر دی ہے مثلاً انسانوں کے آپس کے معاملات کے متعلق ہر ایک انسان کا خد اتعالے سے براہ راست تعلق ہے لیکن معاملات میں براہ راست کوئی حکم جاری نہیں کر سکتا۔مگر پھر یہ بھی کہتا ہے کہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں حتی کہ رسول بھی واسطہ نہیں، خلفاء بھی دنیا میں خدا