تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 152
میت جلده 148 خلافت عثمانیہ کا سولہواں سال پریس نے ایسا متحدہ احتجاج کیا جس کی نظیر نہیں ملتی چنانچہ "انقلاب" (لاہور) مدینہ " (بجنور) " پیغام صلح" (لاہور) "منادی" (دہلی) "الجمعیتہ" (دہلی) " دور جدید " (لاہور) " تازیانہ " (لاہور) مسلم آؤٹ لک" (لاہور) "وکیل" (امرتس) " مونس " (اٹاده ) " اہلحدیث" (امرتسر) "زمیندار" (لاہور) " الامان " ( دیلی) "شباب" (راولپنڈی) "حقیقت" (لکھنو) "ہمت " (لکھنو) نے مذیج کی تائید و حمایت میں پر زور ادار لیے لکھے۔اس کے علاوہ مسلم لیگ (امرتسرد گورداسپور) " مجلس خلافت پنجاب " نے ریزولیوشن پاس کئے۔جس زمانہ میں مذبح سے متعلق یہ فتنہ برپا کیا گیا ہے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سری نگر میں تشریف فرما تھے اور حضور معاملہ کے آغاز ہی سے اس میں غیر معمولی دلچسپی لیتے اور ہدایات دیتے رہے تھے اور سری نگر سے واپسی کے بعد تو آپ نے ایک طرف تو ملی و قومی حق کے حاصل کرنے کے لئے جماعت احمدیہ میں زبر دست جوش و خروش پیدا کر دیا اور دوسری طرف ۱۹ ستمبر ۱۹۲۹ء کو مسئلہ ذبیحہ گائے سے متعلق ہندو سکھ اور مسلم لیڈروں کے نام مفصل مکتوب لکھا۔جو الفضل ۲۰/ ستمبر ۱۹۲۹ء میں شائع ہوا۔جس کے جواب میں سردار جوگندر سنگھ صاحب، سردار تارا سنگھ صاحب بھائی پر مانند صاحب دیانند کالج جالندھر اور بعض مسلمان لیڈروں کے خطوط موصول ہوئے۔چونکہ کمشنر صاحب لاہور کی عدالت میں مذبح قادیان سے متعلق اپیل کی سماعت ہونے والی تھی اس لئے سب سے بڑی ضرورت اس امر کی تھی کہ مسلمانوں کا کیس صحیح صورت میں رکھا جائے۔یہ اہم کام چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے سپرد ہوا۔جنہوں نے ۱۷/ ستمبر ۱۹۲۹ء کو چوٹی کے ہندو وکلاء کے دلائل کی زبر دست تردید کرتے ہوئے ذیح کی ضرورت واضح کی۔ہندو وکلاء آپ کی بحث کے سامنے کوئی ایسی معقول دلیل نہ پیش کر سکے جسے مسلمانوں کو اپنے مذہبی اور اقتصادی حق سے محروم کر دینے کے لئے وجہ جواز قرار دیا جاسکے Na آخر ۲۸/ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو کمشنر صاحب نے (باوجود یہ کہ ان کا رویہ قبل ازیں غیر نصفانہ اور دل آزار نظر آتا تھا، ہندوؤں کی اپیل خارج کر دی اور فیصلہ کیا کہ حکم امتناعی اس وقت تک قائم رہے گا جب تک ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور ذبیحہ گائے کے لائسنس کی تجدید کریں - A4 پنجاب سائمن کمیٹی کی رپورٹ پر تبصرہ پنجاب کے سائمن کمیشن کمیٹی میں مسلمانوں کو اپنی غفلت اور بے حسی کی وجہ سے اپنے تناسب کے لحاظ سے بہت کم نمائندگی ملی۔مزید براں الجھن یہ پیدا ہو گئی کہ کمیٹی کے مسلمان ممبروں نے تعاون کے پیش نظریہ تجویز قبول کر لی کہ پنجاب کو نسل میں کل ایک سو پینسٹھ ممبر ہوں جن میں سے ۸۳