تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 151
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 147 خلافت ثانیہ کا سولہوا۔پڑے ہوئے لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ مباہلہ نہ کرنا اس سبب سے نہیں کہ مباہلہ کو میں جائز نہیں سمجھتا بلکہ اس سبب سے ہے کہ میں مباہلہ کرنا نہیں چاہتا۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو مبالہ بھی ہر شخص سے نہیں ہو سکتا۔اس کے لئے بھی شرائط ہیں مگر اس قسم کے امور کے لئے کہ جن کے متعلق حدود مقرر ہیں اور گواہی کے خاص طریق مذکور ہیں مباہلہ چھوڑ کر قسم بھی جائز نہیں اور ہرگز درست نہیں کہ کسی شخص (الزام دہندہ) کو ایسے امور میں مباہلہ کے مطالبہ کی اجازت دی جائے یا مطالبہ پر مباہلہ کو منظور کر لیا جائے مجھے یہ کامل یقین ہے اور ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہے کہ ایسے امور کے متعلق مباہلہ کا مطالبہ کرنا یا ایسے مطالبہ کو منظور کرنا ہر گز درست نہیں بلکہ شریعت کی ہتک ہے اور میں ہر مذہبی جماعت کے لیڈروں یا مقتدر اصحاب سے جو اس امر کا انکار کریں مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں اگر مولوی محمد علی صاحب یا ان کے ساتھ جو مباہلہ کی اشاعت میں یا اس قسم کے اشتہارات کی اشاعت میں خاص حصہ لے رہے ہیں۔مجھ سے متفق نہیں بلکہ ایسے امور میں مباہلہ کے مطالبہ کو جائز سمجھتے ہیں اور ان کا یہ یقین ہے کہ جو شخص ایسے مطالبہ کو منظور نہیں کرتا وہ گویا اپنے جرم کا ثبوت دیتا ہے تو ان کو چاہئے کہ اس امر پر مجھ سے مباہلہ کر لیں۔پھر اللہ تعالیٰ حق و باطل میں خود فرق کر دے گا۔خاکسار مرزا محمود احمد ۶/۲۹ ۱۵ اس باطل شکن چیلنج کو قبول کرنے اور میدان مباہلہ میں آنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی۔قادیان کے احمدی اور دوسرے مسلمان اپنی ضروریات مدیح قادیان کے انہدام کا واقعہ کے لئے عید اور دوسرے موقعوں پر گائے ذبح کیا کرتے تھے لیکن جب حکومت نے یہاں سمال ٹاؤن کمیٹی قائم کی تو اس عمل کو ایک باضابطہ شکل میں لانے کے لئے کمیٹی کی معرفت مذبح کی درخواست دی گئی۔جو ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور نے منظور کرلی اور کمیٹی نے بھینی متصل قادیان میں منظور شدہ جگہ پر مدیح تعمیر کیا اور جولائی میں اس کے کھلنے کی اجازت ملی اور جونہی اس میں باقاعدہ کام شروع ہوا۔قادیان کے فتنہ پرداز ہندوؤں اور سکھوں نے ارد گرد کے سادہ مزاج اور دیہاتی سکھوں کو بھڑکانا شروع کیا اور ۷ / اگست ۱۹۲۹ء کو کئی سو سکھوں کے شوریدہ سر ہجوم کے ذریعہ پولیس کی موجودگی میں پندرہ منٹ کے اندر اندر ذبح مسمار کرا دیا۔اور پھر سکھوں کو مسلمانوں کے خلاف آلہ کار بنانے کے بعد ڈپٹی کمشنر کے فیصلہ کے بعد کمشنر صاحب کے پاس اپیل دائر کر دی اور اس فتنہ کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے مرعوب ہو کر مدیح کا لائسنس منسوخ کر دیا۔۔اس واقعہ نے سارے ہندوستان کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی زبر دست امر دو ڑا دی۔اور AY AO