تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 139 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 139

تاری احمدیت۔جلد ۵ دو سرا باب (فصل دوم) 135 خلافت ثانیہ کا سولہواں سال جلسہ سیرت النبی او رالفضل کا خاتم النیسین نمبر ۱۲ جون ۱۹۲۹ء پچھلے سال کی " طرح اندرون اور بیرون ملک میں جماعت احمدیہ کے زیر انتظام وسیع پیمانے پر سیرت النبی کے جلسے منعقد ہوئے۔جو شان و شوکت میں آپ ہی اپنی نظیر تھے اس سال آنحضرت ا کی مقدس زندگی کے مندرجہ ذیل پہلوؤں پر بالخصوص روشنی ڈالی گئی۔-I رسول کریم ﷺ کا غیر مذاہب سے معاملہ بلحاظ تعلیم اور تعامل۔توحید باری تعالیٰ پر رسول کریم ﷺ کی تعلیم اور زور لکھا۔پچھلے سال کے جلسوں نے مسلمانوں میں اس کی عظمت و اہمیت کا سکہ بٹھا دیا تھا اس لئے اس دفعہ اسلامی پریس نے اس تقریب کے آنے سے کئی روز پہلے ہی اس کو کامیاب بنانے کی مہم شروع کر دی۔چنانچہ خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنے اخبار ” منادی (۲۴/ مئی ۱۹۲۹ء) میں "ربیع الاول کے جشن خالص مذہبی تقریب کی صورت میں ہوتے ہیں۔مگر دو سری جون کے جلسے اس طرز کے ہوں گے جن میں عیسائی اور ہندو وغیرہ وغیرہ بھی شریک ہو سکیں اور سیرت پاک رسول مقبول ال کو سن کر اپنے ان خیالات کی اصلاح کر سکیں جو غلط پر اپیگنڈا نے غیر مسلمین کے دلوں میں جما دیئے ہیں۔لہذا میرے تمام رفیقوں اور مریدوں کو ان جلسوں کی تیاری و تعمیل میں پوری جد و جہد کرنی چاہئے "۔اخبار "محسن" لمتان (۲۳/ مئی ۱۹۲۹ء) نے لکھا۔یہ امر قابل صد ہزار متائش ہے کہ سلسلہ احمدیہ کے امام صاحب نے اس مبارک تقریب کو کامیاب بنانے کے لئے ہر مذ ہب وملت کے پیروؤں کو مدعو کیا ہے۔ظاہر بین نظریں اس کی تہہ کو نہیں پہنچ سکتیں۔لیکن اگر بنظر امعان دیکھا جائے تو اس کی تہہ میں ایک بہت بڑا اسلامی تبلیغی راز مضمر ہے " اخبار " پیغام عمل " فیروزپور (۲۴/ مئی ۱۹۲۹ء) نے لکھا۔ہم مسلمانوں کو خصوصاد دیگر انصاف پسند اصحاب کی خدمت میں عموماً نہایت ادب و نیاز سے