تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 137
133 خلافت ثانیہ کا۔ہے ایسے بہت خطرناک ہوتے ہیں گورنمنٹ کی خوشامد کرنے والا بے شک غدار ہو سکتا ہے لیکن اس کی غداری اس کے اپنے نفس کے لئے ہوتی ہے۔جو شخص کسی عہدہ یا دنیاوی مطلب کے حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ کی خوشامد کرتا ہے وہ بے شک غدار ہے لیکن جو شخص ملک کے اخلاق کو برباد کرتا اور بگاڑ تا ہے وہ اس سے بڑھ کر غدار ہے پہلے شخص کی غداری کا اثر اس کی اپنی ذات پر ہوتا ہے لیکن دوسرے کی غداری تمام قوم کے لئے تباہی کا موجب ہوتی ہے "۔" قتل راجپال کے سلسلہ میں حضور نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ۔وہ عاجل باتوں کی طرف نہ جائیں مسلمانوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ چاند پر تھوکنے سے اپنے ہی منہ پر آکر تھوک پڑتا ہے۔مخالف خواہ کتنی ہی کوشش کریں۔محمد رسول اللہ ا کے نور کو گر دو غبار سے نہیں چھپا سکتے اس نور کی شعاعیں دور دور پھیل رہی ہیں تم یہ مت خیال کرو کہ کسی کے چھپانے سے یہ چھپ سکے گا۔ایک دنیا اس کی معتقد ہو رہی ہے پادریوں کی بڑی بڑی سوسائٹیوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہمیں سب سے زیادہ خطرہ اسلام سے ہے کیونکہ اسلام کی سوشل تعلیم کی خوبیوں کے مقابلہ میں اور کوئی مذہب نہیں ٹھر سکتا۔اسلام کا تمدن یورپ کو کھائے چلا جا رہا ہے اور بڑے بڑے متعصب اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اسلام کو گالی دینے سے اسلام کی ہتک ہو گی وہ اگر عیسائی ہے تو عیسائی مذہب کا دشمن ہے اگر سکھ ہے تو سکھ مذہب کا دشمن ہے اور اگر ہندو ہے تو ہندو دھرم کادشمن ہتک تو دراصل گالی دینے والے کی ہوتی ہے جسے گالی دی جائے اس کی کیا بہتک ہو گی۔ہتک تو اخلاق کی بناء پر ہوتی ہے اگر کوئی شخص مجھے گالیاں دیتا ہے تو وہ اپنی بد اخلاقی کا اظہار کرتا ہے۔اور اس طرح خود اپنی ہتک کرتا ہے۔میں گالیاں سنتا ہوں اور برداشت کرتا ہوں تو اپنے بلند اخلاق کا اظہار کرتا ہوں جو میری عزت ہے۔وہ مذہبی لیڈر جنہوں نے قوموں کی ترقی کے لئے کام کیا خواہ کسی بڑے طبقہ میں یا ایک بہت ہی محدود طبقہ میں کیا ہو وہ قابل عزت ہیں اور انسانی فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی عزت کی جائے جو قوم ایسا نہ کرنے والوں کی مدد کرتی ہے وہ خود اپنی تباہی کا سامان پیدا کرتی ہے۔اسی طرح وہ لوگ جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں۔وہ بھی مجرم ہیں۔اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھر نکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔میرے نزدیک تو اگر یہی شخص قاتل ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کے پاس جائے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے تمہیں چاہئے کہ خدا سے صلح کر لو اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے بتایا جائے تم سے غلطی ہوئی ہم تمہارے جرم کو تو کم نہیں کر سکتے لیکن بوجہ اس کے کہ تم ہمارے بھائی ہو تمہیں مشورہ دیتے ہیں کہ تو بہ کرو - گریہ و زاری کرد۔خدا کے حضور گڑ گڑاؤ - یہ