تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 136
تاریخ احمدیت جلد ۵ 132 اس وقت متواتر کئی سال سے فساد شروع ہے قوموں میں اختلاف ہے مذہب میں تفرقہ ہے حکومت اور رعایا میں کشمکش جاری ہے ان سب کی وجہ یحبون العاجلة ويذرون ور آنهم يوما ثقيلاي ہے عاجل نتیجہ کو لوگ پسند کر رہے ہیں اور ایک بھاری آنے والے دن کو نظر انداز کر رہے ہیں"۔قیام امن کے اس سنہری اصول کی روشنی میں حضور نے حکومت اور رعایا دونوں کو قصور وار ٹھہرایا حکومت کو بتایا کہ۔"" حکام گورنمنٹ ابھی تک اسی پرانے اثر کے ماتحت ہیں جبکہ ہندوستان میں ہندوستانیوں کی آواز کوئی حقیقت نہیں رکھتی تھی وہ ابھی اسی خیال میں ہیں کہ ہمیں خدائی قدرت حاصل ہے جس چیز کو ہم درست سمجھیں نہ صرف یہ کہ اسے درست سمجھا جائے بلکہ واقعہ میں وہ درست ہی ہے اور جسے ہم غلط سمجھیں نہ صرف یہ کہ اسے غلط سمجھا جائے بلکہ فی الواقعہ وہ غلط ہی ہے۔۔۔۔۔بسا اوقات ان کا لہجہ ایسا ہتک آمیز ہوتا ہے کہ ایک آزاد خیال انسان کے دل میں اس کی قومی عزت کا جوش ابال مارتا ہے اور وہ فور امقابلہ کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ہندوستانیوں میں اس وقت ایک روپیدا ہو رہی ہے۔اور ہندوستانی برابری کے مدعی ہیں۔وہ قوم کے اعزاز اور وقار کو محسوس کرنے لگ گئے ہیں۔وہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہم بھیٹر بکریاں نہیں کہ ریوڑ کی طرح جدھر چاہے ہانک دیا جائے ہم بچے نہیں کہ ہماری نگرانی کی جائے وہ اپنے ملک میں ملکی علوم ملکی تہذیب اور ملکی تمدن کو جاری کرنا چاہتے ہیں پس ان حالات میں اگر انگلستان ہندوستان پر حکومت کرنا چاہتا ہے تو اس کے افسروں کو اپنے رویہ میں تبدیلی کرنی پڑے گی کوئی ملک خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو جب اس میں آزادی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔تو وہ یقیناً آزادی حاصل کر کے رہتا ہے۔دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی مثال ایسی نہیں ملتی کی کوئی چھوٹے سے چھوٹا ملک جس کی آبادی خواہ چند ہزار ہی ہو ہمیشہ کے لئے کسی کا غلام رہا ہو۔پھر یہ ہندوستان کے ۳۳ کرو ڑ انسان کہاں ہمیشہ کے لئے غلامی میں رہ سکتے ہیں"۔" ہندوستان کے سیاسی لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن میں ملک کی آزادی کا جوش ہے۔میں اس کی بہت قدر کرتا ہوں اور آزادی و حریت کا جوش جو میرے اندر ہے میں سمجھتا ہوں اگر احمدیت اسے اپنے رنگ میں نہ ڈھال دیتی۔تو میں بھی ملک کی آزادی کے لئے کام کرنے والے انہی لوگوں میں سے ہو تا لیکن خدا کے دین نے ہمیں بتا دیا کہ عاجلہ کو مد نظر نہیں رکھنا چاہئے میں ان لوگوں کی کوششوں کو پسند کرتا ہوں مگر بعض دفعہ وہ ایسا رنگ اختیار کر لیتی ہیں کہ انگریزوں کو نقصان پہنچانے کے خیال میں وہ اپنی قوم کے اخلاق اور اس روح کو جو حکومت کے لئے ضروری ہوتی ہے تباہ کر دیتی