تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 135 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 135

131 کرنی چاہئے بلکہ آئندہ پوری تندہی سے کام کرنا چاہئے۔AZ خلافت مانید که راجپال کا قتل اور اسمبلی میں بم کا واقعہ ایسے وقت میں جبکہ ملک میں کانگریس کی سیاسی تحریک زوروں پر تھی اپریل ۱۹۲۹ء کے شروع میں دو نہایت اہم واقعات رونما ہوئے جنہوں نے ملکی فضا پر بہت ناگوار اثر ڈالا۔پہلا واقعہ کتاب ”رنگیلا رسول" کے دریدہ دہن اور بد باطن مصنف "راجپال " کا قتل تھا۔جو پچیس چھبیس سال کے ایک پر جوش مسلمان نوجوان علم الدین کے ہاتھوں ۶/ اپریل کو لاہور میں ہوا - مسلمان علماء نے جن میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری بھی شامل تھے۔اس قتل پر اظہار بیزاری کیا اور کہا کہ راجپال کا قتل شرع اسلام کی رو سے ناجائز ہے اور ملک کی سیاسی حالت کے لئے سخت مصر ہے اور اگر کسی مسلمان نے ایسا کیا ہے تو اس فعل کا وہ خود ذمہ دار ہے لیکن آریہ اخباروں نے مسلمانوں پر یہ الزام لگایا کہ ” حالات بتلا رہے ہیں کہ ملک میں ایک سرے سے لے کر دو سرے سرے تک یہ سازش پھیلی ہوئی ہے "۔ایک آریہ مقرر نے دہلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔یہ قلمی جنگ ہے جو شخص حجت اور دلائل سے گزر کر اس قسم کی باتوں پر اتر آتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مذہب میں تحریر و دلائل کی طاقت نہیں لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اسلام کا اس قدر دیوالہ نکل چکا ہے "۔دوسرا واقعہ ۱/۸ اپریل کو نئی دہلی میں ہوا۔جبکہ لیجسلیٹو اسمبلی کے کونسل چیمبر میں جب سپیکر (صد را سمبلی) رولنگ دینے کے لئے کھڑا ہوا تو گیلری سے سرکاری بنچوں پر دو بم پھینکے گئے - حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۲/ اپریل ۱۹۲۹ء کے خطبہ جمعہ میں ان ہر دو واقعات کے پس پردہ اسباب و عوامل پر قرآنی نقطہ نگاہ سے روشنی ڈالی اور بتایا کہ۔" قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے کامیابی کے راستہ میں جو روکیں ہوتی ہیں۔ان کے متعلق ایک کر بتایا ہے اور وہ گر یہ ہے کہ ناکام رہنے والے لوگوں کی ناکامی کا سبب يحبون العاجلة ويذرون ور آنهم يوما ثقیلا ہوتا ہے۔وہ نہا۔تم ہی محدود نگاہ سے معاملات کو دیکھتے ہیں قریب ترین نتائج ان کے نزدیک محبوب ہوتے ہیں اور حقیقی اور اصلی غیر متبدل اور دائمی اثرات و نتائج ان کے پیش نظر نہیں ہوتے۔دنیا میں جس قدر لڑائیاں، فسادات اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔اگر ان کے اسباب پر غور کیا جائے تو ننانوے فیصدی ایسے نکلیں گے جن کا سبب فریقین میں سے کسی نہ کسی کا یا دونوں کا بغیر کافی غورد فکر کے جلدی سے کسی نتیجہ پر پہنچ جانا اور ایک عاجل نتیجہ پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہو گا اگر انسان اپنے جو شوں کو دبائے رکھے اور اگر وہ یہ دیکھے کہ میرے اعمال کا نتیجہ کیا نکلے گا۔تو بہت سی لڑائیاں دور ہو جا ئیں بہت سے جھگڑے بند ہو جا ئیں اور بہت سے فسادات مٹ جائیں میں دیکھتا ہوں ہندوستان میں