تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 134 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 134

130 صاحب نے اس کی تائید کی۔دوسرا اور تیسرا مسودہ غازی عبد الرحمن صاحب نے اور شیردانی صاحب نے پیش کیا۔موخر الذکر واپس لے لیا گیا دونوں مسودے سبجیکٹ کمیٹی میں پاس ہو کر کھلے احباب اس میں پیش ہونے والے تھے کہ ڈاکٹر عالم صاحب کی صدارت پر زبردست ہنگامہ بپا ہو گیا۔اس اثناء میں مسٹر جناح بھی تشریف لے آئے اور انہوں نے کار روائی بند کرادی اور مسلم لیگ کا اجلاس کوئی ریزولیوشن پاس ہوئے بغیر ملتوی ہو گیا۔لیکن حضرت مفتی صاحب نے اپنی کوششیں برابر جاری رکھیں۔جو باز آخر بار آور ہو سکیں۔چنانچه ۲۸/ فروری ۱۹۳۰ء کو مسٹر جناح کی زیر صدارت مسلم لیگ کو نسل کا اہم اجلاس دہلی میں منعقد ہوا۔لیگ کی دونوں شانوں کے پچاس سے زیادہ اصحاب شریک اجلاس تھے۔سر شفیع بھی موجود تھے اور تالیوں کی گونج میں اعلان کیا کیا کہ لیگ کی دونوں شاخوں کو ملا دیا گیا ہے۔اس کے بعد مسٹر جناح ور سر شفیع ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے۔اور دونوں مسلم لیگیں ایک ہو گئیں۔- نظارت امور خارجہ قادیان کی مطبوعہ رپورٹ ۳۰-۱۹۲۹ء میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "دہلی کی آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں اس سال آخری جلسہ میں ہر دو مسلم پارٹیوں کی مصالحت ہوئی جو مدت بعد عمل میں آئی اور اس مصالحت کے کرانے میں ہماری طرف سے بہت کوشش ہوتی رہی فالحمد للہ امید ہے کہ اب انشاء اللہ سب مسلمان مل کر اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے سر بکھٹ ہو سکیں گے "۔سلسلہ احمدیہ کے ترجمان اخبار الفضل " نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا۔" یہ نہایت افسوسناک بات تھی کہ مسلمانوں کی واحد سیاسی انجمن مسلم لیگ میں بھی اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔۔۔۔یہ صورت دردمندان قوم کے لئے بے حد تکلیف دہ تھی۔۔۔۔اور وہ دونوں کو متحد دیکھنے کے آرزو مند تھے۔حال میں مسلم لیگ کے اجلاس کا ایجنڈا جب ہمیں بغرض اشاعت موصول ہوا تو ہم نے اسے شائع کرتے ہوئے ذمہ دار ارکان کو متحد ہونے کی ضرورت بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ سب سے اول اتحاد پیدا کرنا چاہیئے اور پھر مل کر اسلامی حقوق کی حفاظت میں لگ جانا چاہئے"۔(الفضل ۴/ فروری) اب ہمیں یہ معلوم ہو کر بہت خوشی ہوئی کہ ہماری یہ خواہش بر آئی۔اب لیگ کا فرض ہے کہ پوری طرح مسلم حقوق کی حفاظت میں لگ جائے اور پوری کوشش و جد وجہد سے مسلم لیگ کو اس مقام پر لے آئے کہ وہ صحیح معنوں میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کا حق ادا کر سکے۔مسلم لیگ نے بہت وقت غفلت اور اندرونی کشمکش میں کھو دیا ہے اسے نہ صرف گزشتہ کو تاہیوں کی تلافی