تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 133
تاریخ احمدیت جلد ۵ 129 خلافت ثانیہ کا سوله احمدیہ شملہ ، مولوی حاجی حکیم امجد علی صاحب آنریری مجسٹریٹ در کیس دہلی کر تل اوصاف علی خان صاحب کی آئی ای سابق کمانڈر انچیف تا مجھہ اسٹیٹ ، مولوی محمد شفیع صاحب داؤدی ممبر لیجسلیٹو اسمبلی دہلی اور خواجہ حسن نظامی صاحب نے مختلف اجلاسوں میں صدارت فرمائی۔اس جلسہ میں خواجہ صاحب نے رائے بہادر لالہ پارس داس رئیس دہلی کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی امام جماعت احمدیہ کی طرف سے سیرت النبی کے مضمون بطور انعام ایک طلائی تمغہ اور گھڑی پیش کی 14 جناح لیگ اور شفیع لیگ کے الحاق کی کوشش اور کامیابی سائمن کمیشن سے بائیکاٹ کے مسئلہ پر مسلم لیگ دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی نگاہ میں جناب محمد علی صاحب جناح کی سیاسی خدمات کی بہت قدر و منزلت تھی۔اس لئے آپ دل سے چاہتے تھے کہ سر شفیع اور جناح میں مفاہمت ہو جائے۔چنانچہ حضور نے ڈاکٹر سر محمد اقبال (سیکرٹری شفیع لیگ) اور جناب محمد علی جناح دونوں کو خطوط لکھے۔جن کا ذکر ان ہر دو اصحاب نے بعض مجالس میں بھی کیا اور مصالحت کی امید پیدا ہو گئی شروع مارچ ۱۹۲۹ء کو سر محمد شفیع اور جناب محمد علی صاحب جناح کی ملاقات ہوئی۔اس وقت جماعت احمدیہ کے نمائندہ کی حیثیت سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب ( ناظر امور خارجہ ) بھی موجود تھے۔دونوں لیڈر گفت و شنید کے بعد باہمی اتحاد پر آمادہ ہو گئے اور ۲۸-۲۹-۳۰ / مارچ کا اجلاس مسلم لیگ دہلی میں قرار پایا۔اس اجلاس کے دعوتی خطوط II حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھی بھیجے گئے کہ آپ بھی تشریف لائیں۔مسلمانوں کے درمیان مصالحت کے لئے سعی فرمائیں۔حضور خود تو مجلس مشاورت کی وجہ سے تشریف نہ لے جاسکے اس لئے حضور نے اپنی طرف سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو دہلی بھیجا علاوہ ازیں بہار سے حکیم خلیل احمد صاحب سونگھیری بھی آگئے۔حضرت مفتی صاحب مصالحت میں کامیابی کے بہت پر امید تھے۔اور انہوں نے اس کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔مگر سر محمد شفیع تو بیماری کی وجہ سے نہ آسکے اور ان کے رفقاء لیت و لعل میں رہے جناح صاحب نے ہر طرح کوشش کی کہ شفیع لیگ کے تمام اصحاب لیگ میں شامل کر لئے جائیں۔مگر لیگ کے ممبروں نے ان کی سخت مخالفت کی اور مسٹر جناح کی کوئی اپیل قبول نہ کی۔مسلم لیگ کے اس اجلاس میں سبجیکٹ کمیٹی کے سامنے تین ریزولیوشن پیش ہوئے ایک مسودہ جناح صاحب کا تیار کیا ہوا تھا۔جس میں نہرو رپورٹ رد کر دی گئی تھی یہ ریزولیوشن راجہ غضنفر علی صاحب نے پیش کیا اور حضرت مفتی محمد صادق