تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 129 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 129

تاریخ احمدیت جلد ۵ 125 مولوی غلام محی الدین صاحب قصوری، شیخ نیاز علی صاحب کے علاوہ اور بھی کئی اصحاب شامل ہوئے اور مسائل حاضرہ پر گفتگو ہوتی رہی اس کے بعد حضور چوہدری صاحب کی کوٹھی میں تشریف لے گئے اور احمدی اور غیر احمدی دوستوں نے ملاقاتیں کیں۔جنوری کو سر شیخ عبد القادر صاحب نے اپنی کو ٹھی پر حضور اور حضور کے رفقاء کو چائے کی دعوت دی۔اس سے فارغ ہو کر حضور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے ہاں تشریف لے گئے اور بہت سے اصحاب کو شرف ملاقات بخشا۔۱۷/ جنوری کو حضور نے بعض سر بر آوردہ مسلمانوں سے ملاقات کی اور معاملات حاضرہ پر گفتگو فرماتے رہے۔۱۸ جنوری کی صبح کو حضور بذریعہ موٹر لاہور سے بٹالہ آئے اور بٹالہ سے ٹرین پر سوار ہو کر جمعہ سے قبل قادیان پہنچے اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۹۲۸ء کے آخر انقلاب افغانستان پر تبصرہ اور رہنمائی میں مسلم ممالک خصوصاً ترکی اور افغانستان کو متنبہ کیا تھا کہ وہ دین سے بے اعتنائی چھوڑ دیں اور غیر اسلامی رجحانات کا دروازہ بند کر دیں کہ یہ راستے ترقی کے نہیں ترقی کے لئے اسلام کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔شاه افغانستان امیر امان اللہ خان نے جو سیاحت یورپ کے دوران مغربی تہذیب و تمدن پر بے حد فریضہ ہو گئے تھے۔کابل واپس پہنچتے ہی مغربیت کی ترویج و اشاعت کے لئے احکام نافذ کر دیئے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۳/ جنوری ۱۹۲۹ء کو افغانوں نے ایک معمولی انسان حبیب اللہ (عرف بچہ سقہ) کی سرکردگی میں مسلح بغاوت کردی - امیر امان اللہ خان نے قندھار کو مرکز بنا کر کابل پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی لیکن قبائلی سرداروں اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور وہ افغانستان سے بھاگ کر ہندوستان کی راہ سے اٹلی چلے گئے۔ابھی امیر امان اللہ خاں اپنے ملک میں ہی تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۵/ جنوری ۱۹۲۹ء کو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں افغانستان کی شورش پر مفصل تبصرہ کیا اور اپنے موقف کا مندرجہ ذیل الفاظ میں اعلان فرمایا۔آئندہ کے متعلق ہمارا مسلک یہی ہے کہ ہمیں کسی خاص شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جو بھی حکومت کسی ملک میں قائم ہو اس کی اطاعت فرض اور اس سے بغاوت گناہ ہے ہم نے عام فائدہ اسلام کا دیکھنا ہے۔میرے نزدیک سیاسی لحاظ سے اسلام کو حقیقی اسلام کو نہیں کیونکہ وہ تو خود اپنی ذات سے قائم ہے۔اسے اپنے قیام کے لئے کسی ایسے سہارے کی ضرورت نہیں) ہاں سیاسی لحاظ سے اسلام کو