تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 128 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 128

د - جلد ۵ دو سرا باب (فصل اول) 124 خلافت ثانیہ کا سولہواں سال انقلاب افغانستان پر تبصرہ اور راہنمائی سے لے کر مسلمانان ہند کے تحفظ حقوق کی نئی مہم تک خلافت ثانیہ کا سولہواں سال جنوری ۱۹۲۹ء تا دسمبر ۱۹۲۹ء بمطابق رجب ۱۳۴۷ھ تا رجب ۱۳۴۸ھ تک) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی ۱۲/ جنوری ۱۹۲۹ء کو بذریعہ موٹر لاہور سفر لاہور تشریف لے گئے۔اور اپنے برادر نسبتی ڈاکٹر خلیفہ تقی الدین صاحب کے ہاں قیام فرمایا۔اگلے روز (۱۳)/ جنوری کو) حضور نے احمد یہ ہوسٹل میں مختلف کالجوں کے احمدی اور غیر احمدی طلباء کے علاوہ بعض دوسرے اصحاب کو بھی شرف ملاقات بخشا۔۱۴ جنوری کو آپ نے گورنر صاحب پنجاب ( سر جیفری ڈی مانٹ مورنسی) سے ملاقات کی اس کے بعد مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں تشریف لے گئے اور ایک پر معارف تقریر فرمائی جس میں آیت لا يمسه الا المطهرون کی نہایت لطیف تفسیر فرمائی اور بتایا کہ قرآن کریم کے اعلیٰ معارف اور نکات انہیں لوگوں پر کھولے جاتے ہیں جنہیں روحانیت حاصل ہو اور جو خدا تعالٰی کے مقرب ہوں اور یہ قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کا ایک ثبوت ہے۔اسی سلسلہ میں حضور نے بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کا جو علم دیا وہ کسی اور کو حاصل نہ تھا۔حالانکہ اور لوگ ظاہری علوم کے لحاظ سے بہت بڑھ کر تھے اسی طرح مجھے بھی خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ایسے معارف سمجھائے ہیں کہ خواہ کوئی ظاہری علوم میں کتنا بڑھا ہوا ہو اگر قرآن کریم کے حقائق بیان کرنے میں مقابلہ کرے گا تو نا کام رہے گا ن۔یہ تقریر تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔۱۵ جنوری کو چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے حضور کے اعزاز میں مشغل ہوٹل میں جائے کی دعوت دی جس میں سر شیخ عبد القادر صاحب خلیفه شجاع الدین صاحب سید محسن شاہ صاحب