تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 108 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 108

: تاریخ احمدیت جلده 104 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال -+ حواشی (پہلاباب) اس سلسلہ میں ابتدائی تعارف کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ ۶۲۵-۷۲۶ تاریخ احمدیت جلد پ نیم صفحه ۶۳۰ الفضل ۳۱/ جنوری ۱۹۲۸ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۲۰۱۔تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحه ۶۲۶۰۶۳۵ اسی بناء پر سیاسی لیڈروں نے یہاں تک کہا کہ کمیشن میں کسی ہندوستانی کو شامل نہ کر کے ہندوستانیوں کی ہتک کی گئی ہے حالانکہ جب کمیشن صرف برطانوی حکومت کی پارلیمنٹ کے ممبروں پر مشتمل تھا تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ برطانیہ نے اپنے ارکان کا نام اس سے الگ کر کے اپنے ارکان کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔پنجاب کے کانگریسی لیڈر لالہ لاجپت رائے نے مرکزی اسمبلی میں ان دنوں بائیکاٹ کی تائید میں ایک ہنگامہ خیز تقریر کی جس سے ہندو قوم کی سیاست کا تجزیہ کرنے میں آسانی ہوگی۔انہوں نے ایک طرف تو کہا کہ " ہندوستان کے مسائل اتنے وسیع اور پیچیدہ ہیں کہ اگر دیو تا لوگ بھی سورگ (بہشت) سے اتر کر یہاں آئیں تو وہ انہیں سمجھ نہیں سکیں گے۔"۔دوسری طرف کہا " اگر انگریز ہندوستان سے چلے جائیں تو میرے خیال میں موجودہ قانون سے زیادہ انار کی د فساد- خرابی پیدا نہیں ہوگی"۔تیسری طرف کہا " میں اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کا سوال ایسا نہیں کہ جس کا فیصلہ ایک کمیشن کر سکتا ہے بلکہ اس کا فیصلہ گفتگوئے مصالحت اور سمجھوتہ سے ہو سکتا ہے"۔(اہل حدیث ۲۴/ جنوری ۱۹۲۸ء صفحہ (۱۳) اس رویہ کا اس کے سوا کیا مقصد ہو سکتا تھا کہ انگریز اس ملک کی باگ ڈور ہندو اکثریت کو دے کر رخصت ہو جائیں۔اور اگر وہ ان مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو کانگریس سے مصالحت اور سمجھوتہ کر کے حل کر سکتے ہیں اسے کمیشن کے ذریعہ ہندوستان کی تمام جماعتوں اور افراد سے رابطہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ے۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ نے متحدہ ہندوستان میں ہمیشہ ہی مخلوط انتخاب کی مخالفت کی ہے۔اور جداگانہ انتخاب کو مسلمانوں کی قومی زندگی کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔چنانچہ بمبئی کے اخبار " خلافت " نے اسے ایک کارنامہ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ " قادیانیوں کو خواہ کافر کہا جائے خواہ مرتد اور سچی بات یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو ان سے اصولی اختلافات بھی ہیں لیکن ان کو اس بات کا کریڈٹ ملنا چاہئے کہ ان عام اور مشہور اختلافات کے باوجود انہوں نے یہ کبھی نہیں کیا کہ تخصیص نشست چاہی ہو یا مشترک انتخاب کا مطالبہ کیا ہو۔حالانکہ اگر وہ چاہتے تو اپنے سرکاری اثر و نفوذ کے سبب ایسا کر سکتے تھے۔ان کا یہ کارنامہ تاریخ اپنے اندر محفوظ رکھے گی۔اور انہیں ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کرے گی " (اہل حدیث ۲۹/ جون ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۵) گرد " مسلمانان ہند کے امتحان کل وقت " الفضل ۱۶/ دسمبر۱۹۲۷ء صفحه ۸ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء میں صیغہ ترقی اسلام کی رپورٹ میں اس کی تفصیلات بایں الفاظ ملتی ہیں " مجھے اس ٹریکٹ کا ذکر خاص طور پر کر دینا چاہئے جو سائمن کمیشن کے درود ہندوستان سے قبل مسلمانان ہند کے مفاد کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے لکھا۔اور صیغہ ترقی اسلام نے پندرہ ہزار کی تعداد میں اردو میں ہندوستان کے تمام حصوں میں بکثرت شائع کیا۔اور علاوہ ازیں دو ہزار کی تعداد میں یہی مضمون چھپوا کر وائسرائے ، تمام صوبوں کے گورنروں چیف کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کے علاوہ افسران پولیس ، اعلیٰ عہدیداران میڈیکل ڈیپارٹمنٹ انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ وغیرہ غرض حکومت کے ہر طبقہ کے اعلیٰ افسروں کے نام بھیجا گیا۔اسی رسالہ کا اثر تھا کہ سائمن کمیشن کے درود ہندوستان پر مسلمانان ہند نے ہڑتال نہ کی۔(صفحہ ۲۱۲ - ۲۱۳) مسلمانان ہند کی حیات سیاسی صفحه ۱۸ از محمد مرزا دبلوی ذکر اقبال صفحه ۱۳۷ از عبد المجید سالک) مولوی ظفر علی خان صاحب سائمن کمیشن سے بائیکاٹ کرنے کے خیال میں جس قدر مقشد داور خالی ہو گئے تھے اس کا اندازہ آپ کی