تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 84 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 84

یت - جلد د 80 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال ال پر ہم کنوینشن کی بقیہ روداد پر روشنی ڈالتے ہیں۔مولانا محمد علی جو ہر کے چلے جانے پر کے بعد مسلم لیگی لیڈر مسٹر محمد علی صاحب جناح نے حالات کی نزاکت ہندو مسلم اتحاد کی اہمیت آزادی و حریت کی قدر و قیمت اور مسلم مطالبات کی معقولیت پر ایک شستہ اور منجھی ہوئی تقریر کی اور اپیل کی کہ محبت واخوت کے جذبات کے ساتھ ان تجاویز پر غور کیجئے اور انہیں منظور کر کے اختلافات کا خاتمہ کر دیجئے کہ اس وقت قوم کی ضروریات کا تقاضا ئی ہے۔مسٹر جناح کی تقریر پر نہرو کمیٹی کے ممبر سر تیج بہادر سپرو نے کہا۔”ہم یہاں صرف ایک تمنالے کر آئے ہیں کہ جس طرح ہو آپس میں سمجھوتہ ہو جائے۔اگر آپ اعداد و شمار کا تجزیہ کریں تو آپ کا تناسب ۲۷ فیصدی ہے اور مسٹر جناح ۳۳ فیصدی مطالبہ کر رہے ہیں۔میں نہ جناب صدر کا غیر وفادار ہوں نہ نہرو رپورٹ کا لیکن میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ اس مرحلہ پر ہمیں مفاہمت سے اعراض نہیں کرنا چاہئے۔میں اپنی ہر دلعزیزی کو خطرہ میں ڈال کر بھی یہ کہوں گا کہ ہر قیمت پر ہمیں سمجھوتہ کر لینا چاہئے۔یہی اس کانفرنس کا مقصد ہے "۔سر سپرد کی مدلل تقریر نے حاضرین پر ایک حد تک اثر کیا لیکن مشہور مہا سبھائی لیڈر مسٹر جیکر نے کھڑے ہو کر یہ طلسم توڑ دیا۔انہوں نے کہا: ” ہمارے ساتھ مولانا ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر انصاری، سر علی امام راجہ صاحب محمود آباد اور ڈاکٹر کچلو جیسے محب وطن موجود ہیں۔یہ سب حضرات نہرو رپورٹ سے بالکلیہ متفق ہیں خود مسلم لیگ کے بہت سے ممبر نہرو رپورٹ کے حامی ہیں اب اگر مسٹر جناح کسی کی نمائندگی کرتے ہیں تو صرف چند لوگوں کی۔یہ بھی یاد رکھئے مسٹر جناح کا مطالبہ مسلم قوم کا مطالبہ نہیں ہے ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی سر شفیع کے ساتھ ہے جو مخلوط انتخاب کے مخالف ہیں ایک دوسرا طبقہ مسلمانوں کا مسٹر فضل ابراہیم رحمت اللہ کے ساتھ ہے جو دہلی میں ایک مسلم کانفرنس (زیر صدارت آغا خاں) کر رہے ہیں۔مسٹر جناح کا مطالبہ نہ مسلم قوم کا مطالبہ ہے نہ مسلم اکثریت کا۔اس تقریر کے بعد ووٹ لئے گئے تو کنوینشن نے مسٹر جیکر کے حق میں فیصلہ صادر کر دیا اور مسلم لیگ کے مطالبات جو پہلے ہی مختصر سے تھے رد کر دیئے گئے۔مسٹر چھا گلہ (حج ہائیکورٹ ہمیئیں۔مسلم لیگ کے ایک سرگرم کار کن) نے اس واقعہ شکست کی نسبت ۸ / جنوری ۱۹۲۹ء کو ایسوسی ایٹڈ پریس کو ۱۲۴۵- بیان دیتے ہوئے کہا: کنوینشن کے اجلاس کے سامنے لیگ کی نمائندگی اس لئے کی گئی تھی کہ مسلمان چند ضروری ترمیمات کے بعد نہرو رپورٹ کو منظور کر سکیں گے۔میں نہایت افسوس کے ساتھ اس امر کا اعادہ کرتا