تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 74 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 74

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 70 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سا واحد صورت یہی ہے کہ ہندوستان کو خود مختار حکومت ملنے سے پہلے مسلم اقلیت اپنے حقوق منوالے چنانچہ آپ نے کانگریسی مسلمانوں کے نقطہ نگاہ سے شدید اختلاف کرتے ہوئے مسلمانوں کو صاف صاف بتا دیا۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے کوشش نہ کرو اب جبکہ انگلستان نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ ہندوستان کو نیابتی حکومت کا حق ہے اس کے لئے جو جائز کوشش کی جائے میں اس میں اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ شریک ہوں مگر جو چیز مجھ پر گراں ہے اور میرے دل کو بٹھائے دیتی ہے۔وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے حقوق کی حفاظت کئے بغیر آئندہ طریق حکومت پر راضی ہو جا ئیں۔اس کے نتائج نہایت تلخ اور نہایت خطرناک نکلیں گے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ جب تک کہ دونوں مسلم لیگز کی پیش کردہ تجاویز کو قبول نہ کر لیا جائے۔اس وقت تک وہ کسی صورت میں بھی سمجھوتے پر راضی نہ ہوں ورنہ جو خطرناک صورت پیدا ہوگی اس کا تصور کر کے بھی دل کانپتا ہے۔- مسلمانوں کے لئے آئندہ طریق عمل کی راہنمائی تبصرہ کے آخر میں حضور نے مسلمانوں کے سامنے طریق عمل رکھا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔چنانچہ اس سلسلہ میں حضور نے مندرجہ ذیل تجاویز پیش فرما ئیں: اول : مسلمان اپنے مطالبات میں بعض اہم باتوں کو نظر انداز کر رہے ہیں جن پر انہیں اسلامی نقطہ نگاہ سے غور کرنا ضروری ہے۔مثلا رائے دہندگی میں عورتوں کا حق ، خارجی معاملات احترام جمعتہ المبارک ، اہلی اور عائلی معاملات میں اسلامی قانون کے نفاذ پر زور ہائیکورٹوں کے جوں کا تقرر صوبوں کی طرف سے تقرر ریاستوں کا سوال خلاصہ یہ کہ انہیں نہرو کمیٹی پر مزید غور کرنا چاہئے اور اس کے لئے اول تو ایک آل پارٹیز مسلم کانفرنس منعقد ہو جس پر ہر خیال کے مسلمانوں کو اظہار خیال کا موقعہ دیا جائے اور اصولی غور کرنے کے بعد ایک سب کمیٹی بنائی جائے جو نہرو کمیٹی پر تفصیلی اور باریک نگاہ ڈالے اور اس کی خامیوں کو دور اور اس کی کمیوں میں اضافہ کر کے ایک مکمل قانون اساسی پیش کرے۔دوم : نہرو کمیٹی گورنمنٹ کے حلقوں میں ایک خاص جنبش پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہر شہر اور ہر قصبے میں جلسے کر کے یہ ریزولیوشن پاس کئے جائیں کہ ہم نہر د کمیٹی کی رپورٹ سے متفق نہیں اور ان جلسوں کی رپورٹیں گورنمنٹ کے پاس بھی بھیجی جائیں۔سوم : جمہور مسلمانوں کو نہرو رپورٹ کی خرابیوں سے آگاہ کیا جائے اور ہر شہر ہر قصبے اور ہر گاؤں میں اس کے لئے جلسے منعقد ہوں اس تحریک کی کامیابی کے لئے جمہور کا پشت پر ہونا ضروری ہے۔