تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 4 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 4

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت اور پیشنگوئیاں صدیوں اور قرنوں سے ہوتی چلی آرہی تھیں چنانچہ (یہود کی قدیم روایات کی کتاب) ظالمود (جوزف بارکلے) میں لکھا ہے۔"It is also said that he (The Massiah) shall die and his kinkdom descend to his son and grandson۔" طالمو دبائی جوزف بار کلے باب پنجم صفحہ ۳۷ مطبوعہ لنڈن ۶۱۸۷۸) ترجمہ :۔یہ بھی روایت ہے کہ مسیح (موعود) وفات پا جائیں گے اور ان کی بادشاہت ان کے بیٹے اور پوتے کو ملے گی۔ازاں بعد جہاں خدا تعالٰی نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے یہ خبر دی کہ آخری زمانہ میں ایک عظیم الشان روحانی مصلح مسیح موعود کے نام سے مبعوث ہو گا ہاں آپ ہی کے ذریعہ سے اس بات کا بھی اعلان کیا گیا کہ یتزوج و يولد له B یعنی (جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تشریح فرمائی) آنے والا مصلح اکیلا اور تنہا نہیں آئے گا۔بلکہ خدائی منشاء کے مطابق اس کی ایک خاص شادی ہو گی۔اور اس شادی سے خدا اسے اولاد عطا کرے گا۔جن میں سے ایک بیٹا ایک خاص شان کا نکلے گا۔اس کے کام کو بہت ترقی حاصل ہو گی۔اس طرح گویا خدا نے مسیح موعود کی بعثت کے ساتھ ہی آپ کے ایک موعود فرزند کی روحانی خلافت کی بھی داغ بیل ڈال دی۔آنحضرت کے بعد امت محمدیہ کے بعض اولیاء و صلحاء مثلاً حضرت نعمت اللہ ولی اور حضرت امام یحی بن عقب رحمتہ اللہ علیہما پر بھی یہ انکشاف ہوا کہ مسیح موعود کے بعد اس کا ایک صاحب عظمت و شوکت فرزند تخت خلافت پر متمکن ہو گا۔ان اولیاء کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ آیا اور اس موعود فرزند کے ظہور کا وقت بھی قریب آپہنچا تو خدا تعالٰی نے حضرت مسیح موعود پر اس پیشگوئی کی مزید تفصیلات ظاہر فرمائیں چنانچہ دعوئی ماموریت کے چوتھے سال ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء کو پیدائش مصلح موعود کی بڑی صراحت سے بشارت دی گئی اور پسر موعود کی پوری زندگی اور اس کے عہد خلافت کی تاریخ کا نہایت جامع و مانع کے عہد خلافت تاریخ نقشہ کھینچ دیا گیا۔یہ بشارت ان لفظوں میں تھی۔" تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہو گا خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے اس کو مقدس روح دی گئی ہے۔اور وہ رجس سے پاک ہے۔وہ نور اللہ ہے مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گاوہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت