تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 70
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ [IZA¦-۔62 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلاف یہ رساله در اصل انجمن شحمید الا زبان کا آرگن تھا۔اور یہ نام خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھا تھا۔شعید کے پہلے شمارہ میں آپ نے ۱۴ صفحات کا ایک شاندار انٹروڈکشن لکھا جسے پڑھ کر (حضرت خلیفہ اول) مولانا حافظ نور الدین نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور مبارک باد دی۔نیز خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کو خصوصیت سے اس کے پڑھنے کی ہدایت کی۔مولوی محمد علی صاحب نے ریویو آف ریلیجہ اردو میں اس پر ریویو کیا اور مضمون کا آخری حصہ درج کر کے لکھا کہ۔اس وقت صاحبزادہ کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے اور تمام دنیا جانتی ہے کہ اس عمر میں بچوں کا شوق اور امنگیں کیا ہوتی ہیں زیادہ سے زیادہ اگر وہ کالجوں میں پڑھتے ہیں تو اعلیٰ تعلیم کا شوق اور آزادی خیال ان کے دلوں میں ہو گا۔مگر دین کی یہ ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بے تکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے ایک خارق عادت بات ہے۔۔۔۔۔جھوٹ تو ایک گند ہے پس اس کا اثر تو یہ چاہئے تھا کہ گندہ ہوتا نہ یہ کہ ایسا پاک اور نورانی جس کی کوئی نظیری نہیں ملتی۔غور کروا کہ جس کی تعلیم اور تربیت کا یہ پھل ہے وہ کا ذب ہو سکتا ہے ؟ اگر وہ کاذب ہے تو پھر دنیا میں صادق کا کیا نشان ہے ؟ حضرت صاحبزادہ میرزا محمود احمد صاحب کے اسی مضمون پر بس نہیں جس پر جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ایڈیٹر ریویو آف ریلیجز نے مندرجہ بالا تبصرہ کیا۔اور جسے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ثبوت اور نشان قرار دے کر تمام عالم کے سامنے پیش کیا ہے بلکہ شعیذ الاذہان کے زمانہ ادارت میں بڑے بڑے معرکتہ الآراء مضامین آپ کے قلم حقیقت رقم سے نکلے ہیں۔ان دنوں آپ کے دل میں خدمت دین کا اتنا ز بر دست جوش موجزن تھا کہ اپنی نو عمری کی حالت میں تربیتی اصلاحی مضامین لکھنے کے علاوہ مخالفین اسلام کے ساتھ گویا چومکھی جنگ جاری کر رکھی تھی۔رسالہ " تشمیذ الاذہان " ابھی بالکل ابتدائی حالت میں تھا کہ ایک مسلمان گریجوایٹ کے ارتداد پر آمادہ ہونے کی خبر شائع ہوئی۔آپ نے اسے خط لکھا جو ابا اس نے کچھ سوالات کئے اسی اثناء میں آپ کو آنکھوں کے اپریشن کے لئے لاہور جانا پڑا اور آپ وہ خط جواب دینے کے لئے حضرت مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ایڈیٹر " تعلیم الاسلام" قادیان کو دے گئے اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت مولانا صاحب کی آنکھیں بھی رکھنے آگئیں۔اور وہ جواب نہ دے سکے۔اس لئے آپ نے اپریشن سے پہلے خود ہی ان سوالات کے مفصل جوابات تحریر فرمادے۔IA