تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 69
تاریخ احمدیت جلد ۴ 61 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت صاحب کے ذریعہ سے اس میں دوبارہ جان پڑ گئی۔باقاعدہ قواعد بنے اور ۷ / ستمبر 1990ء کو مدرسہ کے احاطہ میں اس کے دور ثانی کا پہلا جلسہ بڑی آب و تاب سے منعقد ہوا۔جس میں پہلی تقریر حضرت مولانا مولوی حکیم نور الدین (خلیفتہ المسیح اول م نے فرمائی اور دوسری سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ الورور نے کی۔اور آپ نے انجمن " تشمعید الاذہان " کے فرائض کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لئے ایک مجلس ارشاد بھی قائم فرمائی۔جس کے اجلاس اردو اور انگریزی دو حصوں میں منقسم تھے۔انگریزی مجلس ارشاد کی صدارت مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے کی اور حضرت مولوی شیر علی پہی یادداشت کے مطابق) مولوی صدر الدین صاحب کا بھی لیکچر ہوا تھا۔حضرت سید محمد الحق صاحب کی شادی پر دعائیہ نظم ۷ / فروری ۱۹۲۶ء کو آپ نے اپنے ماموں حضرت سید محمد الحق صاحب کی شادی پر ایک فی البدیہہ دعائیہ نظم کی۔مولوی محمد علی صاحب نے اس نظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا تھا۔میں نے دیکھا ہے کہ ہر موقع پر یہ دلی جوش ان کا ظاہر ہو جاتا ہے چنانچہ ابھی میر محمد اسحق کے نکاح کی تقریب پر چند اشعار انہوں نے لکھے تو ان میں یہی دعا ہے کہ اے خدا تو ان دونوں اور ان کی اولاد کو خادم دین بنا برخوردار عبدالحی کی آمین کی تقریب پر اشعار لکھے تو ان میں یہی دعا بار بار کی ہے کہ اسے قرآن کا سچا خادم بنا۔ایک اٹھارہ برس کے نوجوان کے دل میں اس جوش اور ان امنگوں کا بھر جانا معمولی امر نہیں۔کیونکہ یہ زمانہ سب سے بڑھ کر کھیل کود کا زمانہ ہے۔اب وہ سیاہ دل لوگ جو حضرت مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افترا ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا " - رسالہ " شعید الاذہان " کا اجراء مارچ ۱۹۰۶ء سے آپ کی ادارت میں رسالہ " شعیذ الاذہان " نکالنا شروع ہوا۔جس نے صحافت احمدیہ میں ایک جدید طرز کی بنیاد رکھی۔اور اسلام کا درد رکھنے والے نوجوانوں میں خدمت اسلام اور اشاعت اسلام کی ایک نئی روح پھونک دی۔آپ نے اس رسالہ میں ابتداء ہی سے بعض مستقل عنوان قائم کر دیئے۔جس سے اس کی افادیت اور بھی بڑھ گئی مثلاً ڈائری حضرت امام الزمان - مسائل شرعیہ - عربی سیکھنے کے لئے آسان طریقہ - حضرت اقدس کے رو یاد الہامات - رسالہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کا غیر مطبوعہ کلام اور ملفوظات بھی چھپتے تھے۔اور مکتوبات امام بھی بلکہ کتابی شکل میں ان مکتوبات کو شائع کرنے کا خیال بھی پہلی بار آپ ہی کے دل میں آیا۔آپ نے اس کا اظہار بھی انہیں دنوں میں کر دیا تھا۔