تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 63
تاریخ احمدیت جلد ۴ 55 سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے بخاری تو پوری پڑھ لو۔دراصل میں نے ان کو بتا دیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب سے قرآن اور بخاری پڑھ لوچنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی میں نے آپ سے قرآن اور بخاری پڑھنی شروع کر دی تھی۔گونانے ہوتے رہے اسی طرح طب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہدایت کے ماتحت میں نے آپ سے شروع کر دی تھی۔طب کا سبق میں نے اور میر محمد اسحق صاحب نے ایک ہی دن شروع کیا تھا۔غرض میں نے آپ سے طلب بھی پڑھی اور قرآن کریم کی تغییر بھی۔بخاری آپ نے دو تین مہینہ میں مجھے ختم کرا دی ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں آپ نے سارے قرآن کا درس دیا تو اس میں بھی شریک ہو گیا۔چند عربی کے رسالے بھی مجھے آپ سے پڑھنے کا اتفاق ہوا " - استاذی المکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے۔قرآن انہوں نے ہی مجھے پڑھایا تھا۔اللہ تعالی نے اب مجھے بہت علم بخشا ہے بلکہ وہ خود فرماتے تھے کہ میں نے تم سے ایسے ایسے معارف قرآن کے سنے ہیں جو نہ مجھے معلوم تھے اور نہ پہلی کتب میں درج ہیں لیکن اس کتاب کی چاٹ انہوں نے ہی مجھے لگائی اور اس کی تفسیر کے متعلق صحیح راستہ پر ڈالا اور وہ بنیاد ڈالی جس پر عمارت تعمیر کر سکا۔اس لئے دل ہمیشہ ان کے لئے دعا گو رہتا ہے "۔ایک بشارت سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یکم فروری ۱۹۰۵ء کو الہاما بشارت ملی - "انی لا جد ريح يوسف لولا ان تفندون" یعنی اگر ایسا نہ ہو کہ تم مجھے جھٹلانے آمده لگو تو میں ضرور کہوں گا کہ مجھے یقینا یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔یہ بشارت مصلح موعود کی آمد سے متعلق اس الهامی شعر کی تشریح سے معلوم ہوتی ہے کہ۔اے فخر رسل قرب تو معلوم شد دیر آمده از راه رور پندرہ سولہ سال کی عمر میں حضرت سیدنا محمود احمد صاحب پر الہام ہوا۔" ان الذین پہلا الهام اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة"۔یعنی وہ لوگ جو تیرے متبع ہیں وہ تیرے نہ ماننے والوں پر قیامت تک غالب رہیں گے - آپ اس الہام کی نسبت فرماتے ہیں کہ۔میں نے جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو بتا دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو اپنے الہامات کی کاپی میں لکھ لیا۔۔۔پہلے میں اسے صرف خلافت کے متعلق سمجھتا تھا لیکن اب میرا ذ ہن اس طرف منتقل ہوا ہے کہ اس الہام میں میرے اس منصب کی طرف اشارہ تھا جو اللہ تعالٰی کی طرف سے مجھے ملنے والا تھا " - ( یعنی مصلح موعود کا منصب) ۱۵۹