تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 59
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 51 سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا اور کچھ لوگوں نے اس میں شورش کرنی چاہی اور بعض آنے والوں پر پتھر پھینکے مسٹریٹی نے ان لوگوں کو ڈانٹ کر ہٹا دیا۔اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لیکچر ہو چکا تو باد از بلند کہا کہ مجھے ان مسلمانوں پر افسوس آتا ہے کہ غصہ تو ہم کو آنا چاہئے تھا کہ انہوں نے اپنے لیکچر میں ہمارے خدا کو مردہ ثابت کیا اور ہمارے خلاف اور بہت سی باتیں کی ہیں لیکن مسلمانوں کے نبی کی بہت تعریف کی ہے اور وہ پھر بھی فساد کرتے ہیں غرض اللہ تعالٰی نے آپ کو سیالکوٹ میں ہر شر سے محفوظ رکھا اور اس سے دشمن اور بھی زیادہ غصہ میں بھر گئے۔چنانچہ انہوں نے آخر تجویز کی کہ آپ کی واپسی پر ٹرین پر پتھر برسائے جائیں اور جو لوگ چھوڑنے جائیں واپسی کے وقت ان کو دکھ دیا جائے چنانچہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس ہوئے تو آپ کی گاڑی پر پتھر برسائے گئے اور جو لوگ وداع کے لئے گئے تھے واپسی پر ان پر حملہ کیا گیا ان لوگوں میں مولوی برہان الدین صاحب ( علمی) مرحوم بھی شامل تھے لوگ بری طرح ان کے پیچھے پڑگئے۔ستر یا بہتر سال ان کی عمر تھی اور نہایت کمزور تھے مگر خندہ پیشانی سے مار کھائی حتی کہ ایک شخص نے گوبر اٹھایا اور ان کے منہ میں ڈال دیا۔بعض دوستوں نے سنایا کہ مولوی صاحب اس وقت بالکل غمگین نہ تھے بلکہ بہت خوش تھے اور بار بار کہتے تھے۔ایہ نعمتاں کتھوں ایسہ نعمتاں کتھوں" یعنی "یہ نعمتیں ہم کو پھر کب میسر آسکتی ہیں۔ایک غیر مطبوعہ قلمی نوٹ حضرت خلیفتہ اصبح اول مولانا نور الدین کی معرکتہ الآراء كتاب "نور الدین " کا دوسرا ایڈیشن ۱۹۰۴ء میں طبع ہوا۔کتاب کے اس دوسرے ایڈیشن کے شروع میں سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالی نے یہ قلمی نوٹ لکھا →۔اس تمام علم میں مہکو ایک نظام نظر آتا ہے ہر اک چیز جیسی کسی چیز کو اس کی بقا کے لیے صوت ہے وہ مہیا ہے۔مثلاً انسانی کے لیے پھیپھڑا۔جگر گردے دل داغ وغیرہ وغیرہ کے قیام کے لیے ہوا۔پانی۔آگ وغیرہ وغیرہ۔آدمی کے لیے رزق متفرق رکھا تو ایسے پاکن رکے اور درخت کے لیے زمین میں رزق تھا ایسے جڑ دیں۔درندوں پر نداده است بر نداری