تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 58 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 58

تاریخ احمدیت جلد ۴ 50 نسید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت فراغت بھی میسر ہو گی اس وقت شاعری بھی کر لینا " مولانا حالی سے مندرجہ بالا جواب ملنے کے بعد جناب جلال لکھنوی سے اصلاح سخن آپ نے کسی اور استاد کی طرف رجوع کرنا چاہا۔اس دور کے بکثرت اساتذہ میں سے تین حضرات بہت بلند پایہ اور عالمگیر شہرت رکھنے والے تھے۔منشی مفتی امیر احمد صاحب امیر مینائی لکھنوی - فصیح الملک نواب مرزا خان صاحب داغ دہلوی اور جناب سید ضامن علی صاحب جلال لکھنوی۔مگر اول الذکر حضرات تو اس وقت وفات پاچکے تھے آخر الذکر ہی باقی تھے آپ نے اصلاح سخن کے لئے انہی کی طرف توجہ فرمائی۔کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ مشق سخن کا یہ سلسلہ جو خط و کتابت ہی کے ذریعہ سے سرانجام پاتا تھا۔جناب جلال لکھنوی کی وفات تک جاری رہا یا ۱۹۰۹ء سے پیشتری کسی وقت ختم ہو گیا۔جو ان کے انتقال کا سنہ ہے۔وسط اگست ۱۹۰۴ء سے اکتوبر ۱۹۰۴ء تک آپ حضرت مسیح موعود علیہ گورداسپور میں قیام اسلام کے ساتھ مقدمہ کرم دین کے سلسلہ میں گورداسپور میں رہے۔حضرت مسیح موعود علیه السلام اگست ۱۹۰۴ء میں لاہور پھر اکتوبر سفر لا ہو روسیا لکوٹ مار میں سیالکوٹ تشریف لے گئے ان دونوں سفروں میں بھی آپ کو ۱۹۰۴ء حضرت اقدس کی معیت حاصل ہوئی سفر سیالکوٹ کے بارے میں حضور کا ایک بیان خاص اہمیت رکھتا ہے۔فرماتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔۔۔۔۔سیالکوٹ تشریف لے گئے تو غیر احمدیوں میں سے بعض نے شورش کرنے کا ارادہ کیا۔مگر اللہ تعالیٰ کا غشاء تھا۔کہ وہاں حضور کو کوئی تکلیف نہ ہو اس لئے اس نے یہ انتظام کر دیا کہ شہر کے ایک رئیس آنا با قرجو قادیان برائے علاج آچکے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت رکھتے تھے۔ڈپٹی کمشنر نے انتظام کے لئے ان سے مشورہ کیا انہوں نے اپنی خدمات انتظام کے لئے پیش کر دیں اور اپنے ساتھ مسٹر یٹی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو لگائے جانے کی خواہش کی اور ڈپٹی کمشنر نے اسے منظور کر لیا۔چنانچہ ان دونوں نے مل کر ایسا عمدہ انتظام کیا کہ کسی قسم کی شورش نہ ہوئی لوگ پتھروں کو لے کر مکانوں پر چڑھے ہوئے تھے۔مگر ان دونوں نے کہہ دیا کہ اگر کسی نے شرارت کی تو ہم اس قدر سزا دیں گے کہ وہ یاد رکھے گا یہ سن کر سب دشمن ڈر گئے۔مجھے یاد ہے جب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر نکلتے وہ ساتھ رہتے۔اس سفر میں ایک لیکچر