تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 666 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 666

تاریخ احمدیت جلد ۴ 631 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال حضرت خلیفتہ المسیح الثانی پر حملہ کی مرکز میں متعدد مقامات سے اطلاعات آئیں کہ سازش اور سالانہ جلسہ ۱۹۲۷ء دشمنان اسلام اور دشمنان سلسلہ احمدیہ حضرت پھرے کا خاص انتظام خلیفہ ثانی پر حملہ کی سازش کر رہے ہیں بعض معزز احمدی دوستوں نے حضرت خلیفہ ثانی کو اس سلسلہ میں نہایت گھبراہٹ کے خطوط لکھے۔کہ غیر مذاہب کے لوگوں کی طرف سے اس قسم کی تجویزیں ہو رہی ہیں اس کے علاوہ بیسیوں لوگوں نے منذر خواہیں بھی دیکھیں جن میں خطرہ دکھایا گیا تھا۔ان وجوہ کی بنا پر جماعت احمدیہ کی طرف سے سالانہ جلسہ ۱۹۲۷ء کے موقعہ پر حضور کی حفاظت کا پہلی بار خاص انتظام کیا گیا۔چنانچہ حضور نے سالانہ جلسہ پر پہرہ کے نئے انتظام کی وجوہ بتانے کے بعد فرمایا۔گوند ہی لحاظ سے خدا تعالیٰ کے رستہ میں مارا جانا بہت بڑی نعمت ہے لیکن شماتت اعداء کو مد نظر رکھتے ہوئے حفاظت کی ضرورت ہے رسول کریم اوں سے بڑھ کر دین کے لئے اور خد اتعالیٰ کی راہ میں قربان ہونے کی خواہش اور کس کو ہو سکتی ہے۔مگر جب رسول کریم اللی کی جان کا خطرہ ہو تا تو صحابہ آپ کی حفاظت کرتے اور قبیلہ کے لوگ باری باری آپ کے گھر کا پہرہ دیتے اور رسول کریم ا اس بات کی اجازت دیتے اور اس وقت جب کہ لوگ پہرہ دے رہے ہوتے آپ بعض اوقات ان سے باتیں کرنے کے لئے باہر تشریف لے آتے۔اس لئے ہم بھی احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہیں ورنہ ایسی باتیں مومن کے لئے خوشی کا باعث ہوتی ہیں۔بزرگ ہستیوں کا انتقال اس سال حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری، منشی محمد عبدالله صاحب ریڈر سیالکوٹی - تائی صاحبہ محترمہ حرمت نبی بی زوجہ مرزا غلام قادر صاحب محترمہ ہاجرہ صاحبہ (نوای حضرت خلیفہ اول حضرت صوفی حافظ تصور حسین صاحب بریلوی اور منشی جھنڈے خان صاحب ( ہے ہالی ضلع گورداسپور) کا انتقال ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسہ ۱۹۲۷ء پر ان جدا ہونے والے بزرگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔میں نہایت افسوس کے ساتھ ان چند اصحاب کی دائی جدائی پر اظہار رنج و ملال کرتا ہوں جن کو خدا تعالے کی مشیت نے اس سال ہم سے جدا کر لیا۔ان میں سے مقدم وجود مولوی عبداللہ صاحب سنوری کا ہے میرے نزدیک ہر سلسلہ کے خادم اور اسلام کے خدمت گزار کا جدا ہونا بہت رنج اور تکلیف کی بات ہے مگر مولوی عبداللہ صاحب سلسلہ کے خادم ہی نہ تھے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام سے پرانی اور دیرینہ صحبت رکھنے کی خصوصیت ہی نہ رکھتے تھے بلکہ اپنے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک بہت بڑا نشان بھی رکھتے تھے۔جو ان کے دفن ہونے کے ساتھ ہی دفن ہو گیا"۔۔