تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 650
خلافت ثانیہ کا چودھواں سال 615 اپنی دکانیں کھولنے کی تحریک مسلم قوم کے لئے ایسی ہی مفید ہے جیسے کہ سودیشی تحریک انڈا اس سلسلہ میں ہماری کوششیں کسی انتقام یادشمنی کی بنا پر نہ سمجھی جائیں۔کسی قوم کے مذہبی یا سوشل عقائد سے کوئی تعرض نہ ہونا چاہئے اگر مسلمان گائے ذبح کرنا چاہیں تو ان کو پوری آزادی ہونی چاہئے۔اسی طرح عیسائیوں سکھوں ہندوؤں کو سٹوریا نے یا جھٹکے کرنے یا باجہ بجانے میں پوری آزادی ہو۔مذہبی امور میں ہر قوم کو مکمل آزادی ہونی چاہئے اور یہ اصل ہندو مسلم اتحاد کا ایک ضروری جزء قرار دینا چاہئے۔ہندوؤں کو ایک ایسا قانون پاس کرانے میں جس کی رو سے پرائیویٹ ساہوکارہ باضابطہ ہو سکے۔ہماری مدد کرنی چاہئے۔اور ہماری کوششوں کو جو ہم مسلم رقبوں میں مسلمانوں کے فائدے کے لئے کو آپریٹو بینک کھلوانے کے سلسلہ میں کریں، فرقہ وارانہ منافرت کا رنگ نہیں دینا چاہئے۔جس طرح ملازمتوں کو ہندوستانیوں کے لئے مخصوص کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اسی طرح مختلف قوموں کے تناسب کے لحاظ سے ملازمتوں میں بھی ان کی نیابت منظور کی جائے۔اور ہر صوبہ میں ہر قوم کی نیابت اس کی تعداد کے لحاظ سے ہونی چاہئے۔یہ امر بطور اصل تسلیم کیا جائے کہ جس صوبہ میں جو قوم زیادہ تعداد میں ہو وہ کو نسل میں قلیل تعداد نہ رکھے۔اور جب کسی قلیل التعداد قوم کو خالص مراعات دیتا ہوں۔تو مذکورہ بالا اصول کے عین مطابق کیا جائے۔یونیورسٹیوں کے بارہ میں بھی یہی اصل ہونا چاہئے کیونکہ یہ ضروری ہے کہ ہر صوبے کی ذہنی بالیدگی ایسی قوم کے سپرد کی جائے جس کی تعداد اس صوبہ میں زیادہ ہو۔صوبہ سرحد میں اصلاحات کا نفاذ اسی طرح اور اسی حد تک ہونا چاہئے جہاں تک کہ دوسرے صوبوں میں ملے ہیں اور اس صوبہ میں ہندوؤں کو وہی حقوق دیئے جائیں جو مسلمانوں کو ان صوبوں میں ملے ہیں۔جہاں وہ اقلیت میں ہیں۔سندھ اور بلوچستان مستقل صوبے بنا دیے جائیں اور یہاں ہندوؤں کو وہی حقوق دیئے جائیں جو مسلمانوں کو ان صوبوں میں حاصل ہیں۔جہاں وہ قلیل التعداد ہیں۔چونکہ دیسی ریاستوں کو بھی برٹش انڈیا کے ہم پایہ ہونا چاہئے۔اس لئے یہ فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ کس ریاست میں وہاں کی حکمران قوم کو قطع نظر اس کی تعداد کے بعض خاص حقوق دیئے -41