تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 649
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 614 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال آپ نے ملکی سطح پر ایک ہندو مسلم اتحاد کانفرنس کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔وائسرائے نے ابتداء میں تو غیر ضروری خیال کی لیکن ۲۹ اگست ۱۹۲۷ء کو کونسل آف سٹیٹ اور مجلس واضع قوانین کے ممبروں میں تقریر کی کہ۔ایک سال گذرا ہے کہ بعض مقتدر اصحاب نے مجھ کو توجہ دلائی تھی کہ میں ایسی کانفرنس منعقد کروں جو ان اسباب پر غور کرے جو امن کے کفیل ہو سکیں۔بعض وجوہ کی بناہ پر جو اس وقت مجھ کو یقینی معلوم ہوتی تھی۔میں نے اس وقت کوئی کارروائی کرنا مناسب خیال نہ کیا لیکن اس عرصہ میں بعض ایسے واقعات رونما ہوئے جن سے میں مجبور ہو گیا کہ اپنے سابقہ فیصلہ پر نظر ثانی کروں"۔اس تقریر کے دوسرے روز شملہ میں ہندو مسلم اتحاد کی کانفرنس شروع ہو گئی۔۳۰ اگست ۱۹۲۷ء کو اس کانفرنس کا پہلا مشترکہ (مگر اتحاد کانفرنس کا پہلا مشترکہ اجلاس غیر ضابطہ ) اجلاس کو نسل چیمبر میں ہوا۔اس اجلاس میں جناب محمد علی صاحب جناح ( قائد اعظم) سر عبد القیوم صاحب سر عمر حیات خان صاحب ٹوانہ سر ذو الفقار علی خان صاحب، مولانا شوکت علی صاحب و جناب محمد علی صاحب جو ہر مولوی ظفر علی خان صاحب پنڈت مدن موہن مالویہ - ڈاکٹر مونجے لالہ لاجپت رائے ، مسٹر سری نواس آئینگہ وغیرہ لیڈر شامل ہوئے اور سمجھوتے کے طریق پر گرما گرم تقریریں اور بحثیں ہوئیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اپنی تقریر میں اتحاد کے صحیح طریق پر روشنی ڈالی اور مسلمانوں کے اقتصادی حقوق کی حفاظت پر زور دیا۔اتحاد کے اصول کو مفصل غور کے لئے ے تمبر۱۹۲۷ء کا دوسرا اجلاس مقرر ہوا۔محمد حضرت خلیفتہ اصحیح کی تجاویز ہندو مسلم فیصلہ کے مطابق سے ستمبر۷ ۱۹۲ء کو دو سرا اجلاس ۲ منعقد ہوا جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اتحاد سے متعلق کانفرنس کے دوسرے ہندو مسلم اتحاد سے متعلق مندرجہ ذیل میں اہم تجاویز پیش فرمائی۔اجلاس میں ہر جماعت کو اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کرنے اور دوسروں کو اپنے مذہب میں داخل کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہئے۔کسی کے مذہب پر کسی ایسے عقیدہ یا دستور کی وجہ سے جسے وہ اپنے مذہب کا جزو نہ سمجھتی ہو کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔ہر قوم کو مکمل آزادی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے افراد کی اقتصادی اصلاح کر سکے اور ان کو کاروبار کرنے یاد کانیں کھولنے کی ترغیب دے اور ان کی سرپرستی کی تحریک کرے۔