تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 634
تاریخ احمدیت جلد ۴ 599 جس طرح لاله گیان چند (ابڈ میٹرو ر تمان ناقل) کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے اسی طرح مرزا کے خلاف بھی قانون کو حرکت دی جاتی۔کتاب ”رنگیلا رسول" سے متعلق عدالت پنجاب کا فیصلہ اوپر کتاب ”رنگیلا رسول " کا ذکر آچکا ہے اس ناپاک کتاب کے مقدمہ میں راجپال کو زیر دفعہ ۱۵۳- الف تعزیرات ہند چھ ماہ قید بامشقت اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ قید مزید کی سزا ہوئی تھی۔راجپال نے پنجاب ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی اور اس کے حج کنور دلیپ سنگھ نے فیصلہ دیا کہ۔” میری رائے میں دفعہ ۱۵۳- الف اس قدر وسیع معانی کے لئے نہیں بنایا گیا تھا۔میرے خیال میں اس دفعہ کے وضع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو کسی ایسی قوم پر حملہ کرنے سے روکا جائے جو موجود ہو نہ کہ اس سے گذشتہ مذہبی رہنماؤں کے خلاف اعتراضات اور حملوں کو روکنا مقصود تھا۔جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس امر پر اظہار افسوس کرتا ہوں کہ ایسی دفعہ کی تعزیرات میں کمی ہے لیکن میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ مقدمہ دفعہ ۱۵۳ - الف کی زد میں آتا ہے اس لئے میں نظر ثانی کو بادل ناخواستہ منظور کرتا ہوں۔اور مرافعہ گزار کو بری کرتا ہوں"۔فیصلہ کے خلاف اخبار "مسلم آؤٹ لک لاہور کا عدالتی فیصلہ کے خلاف احتجاج اخبار مسلم آؤٹ تک (Muslim Out Look) کے احمدی ایڈیٹر سید دلاور شاہ صاحب بخاری نے ۱۴ جون ۱۹۲۷ء کو " مستعفی ہو جاؤ " کے عنوان سے ایک اداریہ لکھا جس پر پنجاب ہائیکورٹ کی طرف سے اخبار کے ایڈیٹر اور اس کے مالک و طابع (مولوی نور الحق صاحب کے نام توہین عدالت کے جرم میں ہائیکورٹ کی طرف سے نوٹس پہنچ گیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سید دلاور شاہ صاحب بخاری ہائیکورٹ کا نوٹس سے سید دلاور شاہ بخاری کو مشورہ لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور " عرض کیا کہ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ مضمون پرا سهار افسوس کر دینا چاہئے مگر حضور نے مشورہ دیا کہ۔ہمارا فرض ہونا چاہئے کہ صوبہ کی عدالت کا مناسب احترام کریں لیکن جبکہ ایک مضمون آپ نے دیانتداری سے لکھا ہے اور اس میں صرف ان خیالات کی ترجمانی کی ہے جو اس وقت ہر مسلمان کے دل میں اٹھ رہے ہیں تو اب آپ کا فرض سوائے اس کے کہ اس سچائی پر مضبوطی سے قائم رہیں