تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 633
تاریخ احمد بیت ، جلد ۴ 598 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔اور تیسرے یہ کہ آپ مسلمانوں کو تمدنی اور اقتصادی غلامی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں گے اور اس وقت تک بس نہیں کریں گے جب تک کہ مسلمان اس کچل دینے والی غلامی سے بکلی آزاد نہ ہو جائیں اور جب آپ یہ عہد کرلیں تو پھر ساتھ ہی اس کیمطابق اپنی زندگی بسر کرنے لگیں۔یہی وہ سچا اور حقیقی بدلہ ہے ان گالیوں کا جو اس وقت بعض ہندو مصنفین کی طرف سے رسول کریم احمد سے فداہ نفسی واہلی کو دیجاتی ہیں اور یہی وہ سچا اور حقیقی علاج ہے جس سے بغیر فساد اور بدامنی پیدا کرنے کے مسلمان خود طاقت پکڑ سکتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں ورنہ اس وقت تو وہ نہ اپنے کام کے ہیں نہ دوسروں کے کام کے اور وہ قوم ہے بھی کس کام کی جو اپنے سب سے پیارے رسول کی عزت کی حفاظت کے لئے حقیقی قربانی نہیں کر سکتی؟ کیا کوئی درد مند دل ہے جو اس آواز پر لبیک کہہ کر اپنے علاقہ کی درستی کی طرف توجہ کرے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو"۔اس پوسٹر نے جو پورے ہندوستان میں ایک ہی تاریخ کو راتوں رات چسپاں کر دیا گیا تھا۔ملک بھر میں زبردست ہیجان کی صورت پیدا کر دی اور حکومت کو انتہائی جدوجہد کے ساتھ امن قائم رکھنا پڑا۔اگرچہ پوسٹر ضبط کر لیا گیا مگر یہ ضبطی غیرت رسول اور عشق رسول کے طوفان کو بھلا کیا روکتی اس سے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام اور بانی اسلام حضرت محمد ال کے لئے قربانی اور فدائیت کے جذبات پہلے سے بھی زیادہ شدت سے موجزن ہونے لگے اور خود حکومت کو بھی " در تمان " کا ناپاک اور گندہ پرچہ ضبط کرنے اور اس کے ایڈیٹر اور مضمون نگار پر مقدمہ چلانے کی فوری توجہ پیدا ہوئی۔ہندوؤں نے یہ صورت دیکھی تو سر میلکم ہیلی (STR MALCOLM HAILEY) گورنر پنجاب کے نام کھلی چھٹی لکھی۔" اس رسالہ ” در تمان " میں جو مضمون قابل اعتراض سمجھا گیا ہے اس کے جواب میں ایک نہایت گنده دل آزار اور اشتعال دلانے والا پوسٹر مرزا بشیر۔۔۔۔قادیان کی طرف سے شائع کیا گیا اور اس کی ہزار ہا کا پیاں چھاپ کر ملک کے ہر حصہ میں تقسیم اور چسپاں کرائی گئیں۔رسالہ در تمان کا وہ پرچہ جس پر قابل اعتراض مضمون چھپا چند سو سے زیادہ نہ چھپا ہو گا اور اسے ایک آدھ مسلمان کے سوا اور کسی مسلمان نے نہیں پڑھا ہو گا لیکن مرزا کا پوسٹر جہاں لاکھوں مسلمانوں نے پڑھا وہاں لاکھوں ہندوؤں کی بھی نظر سے گذرا۔اور اس طرح پر اس کے ذریعہ زیادہ زہر پھیلایا گیا۔مگر سرکار نے مرزا کی اس شرارت کا اس کے سوا اور کوئی نوٹس نہ لیا کہ اس کا پوسٹر ضبط کر لیا گیا کیا اس امر کی ضرورت نہ تھی کہ