تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 625
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 590 چھٹکارا حاصل کرلیں گے یا ہمارے گلے کانے جائیں گے۔اس خواہش کی بنا پر میں نے بھی استخارہ کیا۔مجھے رویا میں بتایا گیا۔پندرہ دن اور ساتھ ہی ایک گھڑی دکھائی گئی جس پر بارہ بج کر اٹھاون منٹ کا وقت تھا اور تقسیم یہ ہوئی کہ ہم پند رودن کے بعد بارہ بج کر اٹھاون منٹ پر قیدت رہا ہو جائیں گے ایک دوست محمد طیب نامی کے متعلق معلوم ہوا کہ ان کے کاغذات پر حضرت خلیفتہ المسیح نے دستخط ثبت نہیں کئے اس لئے وہ ہمارے ساتھ قید سے رہا نہیں ہوں گے۔وہ ہمارے بعد رہا ہوں گے۔یہ پندرہ دن مہینہ کی ۲۷ تاریخ کو ختم ہوئے تھے یہ رویا سب دوستوں کو سنادی گئی اور ہم سب منتظر تھے کہ وہ دن کب آتا ہے جب ہم رہا ہوں گے۔اتفاق ایسا ہوا کہ جب ہم لوگ سونے لگے تو میرا ہاتھ مکرم مولوی عبد الواحد صاحب ساری مبلغ (جو قید میں میرے ساتھ تھے) کے سرپر لگا۔ان کے علاقہ میں جسے میں نے افریدیوں کا علاقہ قرار دیا ہے یہ معیوب سمجھا جاتا تھا کہ کوئی شخص کسی کے سر پر ہاتھ لگا دے۔لیکن میرا ہاتھ ان کے سر پر اتفاقی طور پر لگ گیا۔مولوی صاحب کی طبیعت پر یہ ناگوار گزرا اور آپ نے مجھ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ہم میں بحث کی صورت پیدا ہو گئی رات کو ساڑھے تین بجے کے قریب میں نے رویا میں دیکھا کہ اللہ تعالی کو ہم دونوں کی کل کی حرکت نہایت نا پسند ہے اور اس تکرار کے نتیجہ میں جو ہم دونوں میں ہوئی ہم سب کو تین دن مزید قید کی سزادی جائے گی۔میں نے انہیں اسی وقت جگایا۔میری آنکھوں میں آنسو تھے میں ان کے گلے لگ گیا۔اور ان سے معافی مانگنی شروع کی انہوں نے کہا پاگل تو نہیں ہو گئے جاپانی سنیں گے تو ہمیں مارنا شروع کر دیں گے۔میں نے انہیں رویا کے متعلق بتایا تو وہ بھی رونے لگ گئے المختصر ہم تمہیں مئی کو رہا ہوئے اور رویا کے مطابق جب قید خانہ کے دروازہ سے باہر نکلے تو گھڑی پر ایک بجنے میں دو منٹ باقی تھے۔محمد طیب صاحب کو کمرہ سے باہر لا کر تھوڑی دیر بعد پھر انہیں کمرہ میں بند کر دیا گیا۔قید میں ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ایک دن ہم عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے مولوی عبد الواحد صاحب امام تھے اور ہم دو مبلغ مقتدی تھے ڈیوٹی پر جو سپاہی تھا اس نے ہمیں نماز پڑھتے دیکھ لیا اور کھڑکی کھول کر اندر آگیا۔اس سپاہی کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا تھا۔اس نے ہمیں زور سے ایک ایک کو ڈا مارا اور کہا یہ کیا کر رہے ہو۔جاپانی خدا تعالی کی توحید پر ایمان نہیں رکھتے وہ دیوتاؤں کے پجاری ہیں۔طبعاً ہمیں یہ بات ناگوار گزری کہ اب ہمیں عبادت کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ہم نے دعا کی اور اسی رات ہم میں سے اکثر کو خدا تعالٰی نے رویا میں دکھایا کہ جاپانی عنقریب تباہ ہو جائیں گے۔مجھے بھی دس سے زیادہ مرتبہ رویا میں بتایا گیا۔لفمز قنهم یعنی ہم انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔ہم کی ضمیر کا اشارہ جاپانیوں کی طرف تھا اور ساتھ ہی یہ بتایا گیا کہ ۱۲ اگست سے ۲۲/ اگست کے درمیان جاپانی تباہ ہوں گے اس کے دوسرے سال یعنی ۱۹۴۵ء میں ۱۲/ اگست کو جاپانی علاقہ میں ایٹم بم گرایا گیا۔اور ۲۲/ اگست کو جار میں جاپانیوں نے اتحادیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے"۔( خالد مئی ۱۹۵۴ء صفحہ (۳۲-۳۰ ۱۶ الفضل ۲۵/ جنوری ۱۹۴۶ء میں حضور کا مفصل ارشاد شائع ہوا تھا جس کا متن ۱۹۴۶ ء کے واقعات میں درج کیا جائے گا۔۱۴۷- رساله خالد جون ۱۹۵۴ء صفحہ ۱۸۰۱۷ ۱۴۸- تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔۱۴۹۔اس دورہ کی تفصیلات اپنے مقام پر آئیں گی۔یہاں صرف اجمالا تذکرہ کیا گیا ہے۔سانبہ ارد صاحب۔امر و جناب کمال یوسف صاحب سابق مبلغ سکنڈے نیویا سیکر ٹری کی حیثیت سے گئے تھے۔۵۰ مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی کتابچه تحریک جدید مرتبه جناب ، دادی نور الدین صاحب منیر ایم اے (نائب وکیل التصنیف تحریک جدید) شائع کرده و کالت تبشیر ربوه ۱۵۱ ۱۵۲ ۱۵۳ سید شاہ محمد صاحب رئیس انتبلیغ انڈو نیشیا کی رپورٹ متحربه ۱۸/۱/۱۲ سے ماخوز- ۱۵۴- بحوالہ الفضل ۸/ تمبر ۱۹۲۵ء صفحہ ۱۱ ۱۵۵- الفضل ۱۲/ ستمبر ۱۹۲۵ء صفحه ۵ تا ۹- ۱۵۶ الفضل ۵/ دسمبر ۱۹۲۵ء صفحہ ۷ تا ۱ ۱۵۷ الفضل ۲۱/ نومبر ۱۹۳۵ء صفحه ۵ ۱۵۸- بدر / اپریل ۱۹۰۷ء صفحه ۴ الحکم ۱۰ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ و تذکرہ طبع دوم صفحہ۔اے۔