تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 609
تاریخ احمدیت جلد ۴ 574 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال کے کان میں وہ پہنچے اور کوئی شخص اس آواز کو دبا نہ سکے "۔مسلمانوں کو اشتراک عمل کی دعوت اپنی جماعت کو مخاطب کرنے کے بعد حضور نے خواب غفلت میں پڑے ہوئے مسلمانوں کو آنے والے عظیم خطرہ سے ہوشیار اور بیدار کرتے ہوئے اشتراک عمل کی دعوت دی اور فرمایا۔وہ آنحضرت ﷺ کی محبت کا دعوئی رکھتے ہیں۔اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم ان کے ہونٹوں سے تو یہ بات نکلتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی محبت ان کے اندر ہے اور پھر ان میں سے بعض تو اسلام کا درد بھی رکھتے ہیں۔پس جب یہ بات ان میں پائی جاتی ہے تو میں ان الفاظ کاہی واسطہ دے کر انہیں کہتا ہوں کہ وہ جو آنحضرت ا کی محبت کے الفاظ بولتے ہیں۔ان کا لحاظ کر کے ہی وہ اس نازک وقت میں اسلام کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس وقت یقینا وہی براہین اور دلائل کارگر ہو سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتائے ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر کی لڑائی چھوڑ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے"۔اس سلسلہ میں حضور نے مسلمانان ہند سے تین باتوں کی خواہش کی۔دشمن کے مقابلہ کے وقت ہم آپس میں متحد ہو جائیں اور ایک دوسرے کے مددگار بنیں۔۲ مسلمان اپنے ماحول کے حالات سے باخبر رہیں اور جس جگہ وہ ہندوؤں کے حملہ کا دفاع نہیں کر سکتے وہ ہمیں اطلاع دیں۔ہم اپنے آدمی بھیج دیں گے۔جہاں جہاں آریوں اور عیسائیوں کا زور ہو۔وہاں مسلمان تبلیغی جلسے کر کے ہمارے واعظ بلوائیں۔اس اعلان پر اسلام کا درد رکھنے والا طبقہ احمدی واعظوں کو اپنے جلسوں میں بھی بلانے لگا اور احمدی مسلمان اور غیر احمدی مسلمان دونوں ایک پلیٹ فارم پر اسلام کا دفاع کرنے لگے چنانچہ اس زمانہ کے اخبارات میں ایسی مثالیں بکثرت موجود ہیں کہ دوسرے مسلمانوں کو جہاں بھی اور جس وقت بھی آریوں یا عیسائیوں کے خلاف جلسہ کرنے یا مناظرے کرنے کی ضرورت پیش آئی احمدی مبلغ دعوت ملتے ہی وہاں بلا تامل پہنچے اور انہوں نے مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے۔چنانچہ خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنی کتاب "مسلمان مہارانا" میں اقرار کیا کہ۔اگرچہ میں قادیانی عقیدہ کا نہیں ہوں نہ کسی قسم کا میلان میرے دل میں قادیانی جماعت کی طرف ہے۔لیکن میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ قادیانی جماعت اسلام کے حریفوں کے مقابلہ میں بہت مؤثر اور پر زور کام کر رہی ہے۔