تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 569
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 534 ت ثمانیہ کا بارھواں سال معارف قرآنیہ میں مقابلہ کا چیلنج قادیان میں اس سال غیر احمدی مسلمانوں کا سالانہ جلسہ ہوا۔جس میں ایک دیو بندی عالم نے اپنی تقریر میں کہا 2 ہمیں معلوم نہیں کہ وہ معارف قرآنیہ کیا ہیں جو مرزا صاحب نے قرآن مجید سے استنباط کئے ہیں - اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جولائی ۱۹۲۵ء میں علمائے دیو بند کو چیلنج دیا کہ " میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادنیٰ خادم ہوں میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کسی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کرلیں اور وہ تین دن تک اس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کتب میں موجود نہ ہوں اور میں بھی اسی ٹکڑے کی اس عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کی روشنی میں اس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چند ایسے معارف بیان کروں گا جو اس سے پہلے کسی مفسریا مصنف نے نہ لکھے ہوں گے اور پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے۔اور مولوی صاحبان کو قرآن کریم اور اس کے نازل کرنے والے سے کیا تعلق ہے"۔دیوبندی علماء نے دعوت مقابلہ قبول کرنے کی بجائے لکھا کہ " صاحبزادہ صاحب! آپ کو دین و ایمان اسلام و قرآن معارف اللہ اور حقائق و عرفان سے کیا تعلق۔آپ تو آپ آپ کے تو ابا جان بھی ان تمام باتوں سے محروم تھے " - مگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے اہلحدیث (۲۱/ اگست ۱۹۲۵ء) میں بظاہر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا۔گو ہماری اس میں بنک ہے کہ ہم ایک ایسے شخص کے سامنے بیٹھیں جو نہ علوم ظاہری کے عالم ہیں نہ کسی باطنی درجہ کے مدعی تا ہم بلا تکلف ہم کو یہ صورت منظور ہے پس آپ اسی میدان میں تشریف لے آئیے جس میں مرزا صاحب نے امرتسر میں مباہلہ کیا تھا " قادیان سے جواب دیا گیا کہ تفسیر نویسی کے مقابلہ کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے قادیان سے باہر تشریف لے جانے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ مناسب انتظام کے ساتھ اپنی اپنی جگہ بیٹھے بھی یہ مقابلہ ہو سکتا ہے امرتسر میں قرعہ اندازی ہو اور ہر دو جانب سے قرعہ سے منتخب ہونے والے تین رکوع کی تفسیر لکھیں اور پھر یہ دونوں تفسیریں مساوی خرچ پر یکجا شائع کر دی جائیں۔ہاں اگر مولوی ناء اللہ صاحب بالمشافہ تفسیر نویسی ضروری سمجھتے ہیں تو وہ قادیان تشریف لے آئیں ان کے تمام مناسب اخراجات ہم ادا کریں گے اور ہر قسم کی جانی اور مالی حفاظت کی ذمہ داری ہم پر ہوگی۔جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے مقابلہ کی کوئی صورت بھی قبول نہ کی۔البتہ ایک عرصہ