تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 564
529 خلافت ثانیہ کا بار AL مولانا ابو العطاء صاحب مولوی محمد سلیم صاحب فاضل کو چارج دے کر شام اور عراق کے راستہ ۲۴ فروری ۱۹۳۶ ء کو قادیان پہنچ گئے ! مولوی محمد سلیم صاحب ۱۴ جنوری ۱۹۳۶ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور ۲۷/ جنوری ۱۹۳۶ء کو حیفا پہنچے ہی تھے کہ آپ کے چارج لینے کے چند ہفتے بعد فلسطین بھر میں عربوں اور یہودیوں کی باہمی کشمکش کی وجہ سے عام ہڑتال شروع ہو گئی۔جو چھ ماہ تک جاری رہی۔جس نے جلدی شورش کی شکل اختیار کرلی۔تاہم آپ نے دار التبلیغ کے مرکز کبابیر میں درس و تدریس کا سلسلہ با قاعدہ جاری رکھا۔" البشری " کی ادارت کا کام خوش اسلوبی سے سنبھالے رکھا مدرسہ کہا بیر کی ترقی و بہبود میں دلچسپی لی اور فلسطین، شرق اردن اور مصر میں علماء از ہر نیز عیسائی پادریوں سے مناظرے کئے جن میں سچائی کو فتح نصیب ہوئی۔آپ کے وقت میں بھی کئی سعید رو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں داخل ہو ئیں۔آپ نے اپنے زمانہ قیام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مشہور کتاب " الاستفتاء " شائع کی۔اور رسالہ اسئله واجوبہ (پہلا حصہ) بھی لکھا۔Ar مولوی محمد سلیم صاحب فاضل قریباً دو سال تک فریضہ تبلیغ ادا کرنے کے بعد ۱۰/ مارچ ۱۹۳۸ء کو واپس آگئے۔تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے چوہدری محمد شریف صاحب فاضل کو فلسطین روانہ فرمایا تم - AQ AC آپ ۷ / ستمبر ۱۹۳۸ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور ۲۴/ ستمبر ۱۹۳۸ء کو حیفا پہنچے آپ بلاد عربیہ میں قریباً ۱۸ سال تک تبلیغ احمدیت میں مصروف رہنے کے بعد ۱۵/ دسمبر ۱۹۵۵ء کو ربوہ میں واپس آئے۔آپ کا دور تبلیغ بڑے صبر آزما حالات میں گزرا۔عربوں اور یہودیوں کی کشمکش پہلے سے زیادہ نازک صورت اختیار کر گئی۔اسی دوران میں آپ کے قتل کا منصوبہ بھی کیا گیا جو نا کام ہو گیا۔فلسطین میں عربوں اور یہودیوں کی خانہ جنگی جب انتہاء کو پہنچ گئی تو تو میرے ۱۹۴ ء میں اقوام متحدہ کی طرف سے تقسیم فلسطین کے فیصلہ کا اعلان ہو ا اور ۱۵/ مئی ۱۹۴۸ء کو اسرائیل حکومت قائم ہو گئی اور ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا۔جہاں ہزاروں بے گناہ عرب مارے گئے اور لاکھوں بے خانماں ہوئے حیفا اور کہا بیر باقی ملک سے کٹ گیا اور متعد د احمدی جماعتیں ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ابھی تقسیم فلسطین کا آخری فیصلہ نہیں : وا تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے حکم سے شیخ نور احمد صاحب منیر اور مولوی رشید احمد صاحب چغتائی بالترتیب ۱۳/ اکتوبر ۱۹۴۵ء اور ۲۳/ اکتوبر ۱۹۴۶ء کو بلاد عربیہ میں تبلیغ کے لئے فلسطین روانہ ہوئے۔