تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 555 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 555

تاریخ احمدیت جلد ۴ 520 خلافت ثانیہ کا بار ھو انگریزوں نے کیا تھا۔وہ تو پورا نہ کیا۔البتہ عربوں کے لیڈر شریف حسین (شریف مکہ) کو حجاز کا بادشاہ تسلیم کر لیا شریف حسین اس وعدہ خلافی پر بہت تلملائے۔نجد کے سلطان امیر عبد العزیز ابن سعود نے حجاز پر چڑھائی کر دی اس لڑائی میں جیسا کہ بعد کو انکشاف ہوا۔ابن سعود اور شریف حسین دونوں کو برطانیہ کی خفیہ امداد حاصل تھی۔ہندوستان کی برطانوی حکومت امیر عبد العزیز ابن سعود کا حوصلہ بڑھا رہی تھی اور مصر کے برطانوی حکمران شریف حسین کو امداد دے رہے تھے BI - امیر عبد العزیز ابن سعود کی فوجیں تجربہ کار تھیں شریف حسین کو شکست پر شکست ہونے لگی اور طائف بھی ہاتھ سے نکل گیا۔مگر ابھی تک شریف حسین میں تاب مقابلہ تھی۔لیکن جو نبی مکہ مکرمہ پر سعودی لشکر نے حملہ کیا تو انہوں نے اس خیال سے کہ اہل مکہ ہی اس کے خلاف کہیں بغاوت نہ کر دیں اور ان کے لئے بھاگنے کا رستہ نہ رہے خلافت سے دستبرداری اختیار کرلی اور ان کے بڑے لڑکے شریف علی نے ان کی جگہ عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور اپنی فوج ترتیب دے کر جدہ کو اپنا صدر مقام بنا لیا اور کھلے میدان میں جنگ کرنے کی بجائے ساحل سمندر کے پاس شہروں میں محصور ہو گئے۔اور اس طرح وسط ۱۹۲۵ء میں حجاز کی صورت یہ تھی کہ امیرابن سعود کا مکہ مکرمہ پر اقتدار ہو چکا تھا۔مگر جدہ کی مشہور بندرگاہ جو ہندوستانی حجاج کا صرف ایک ہی راستہ تھی شریف حسین کے قبضہ میں تھی۔مگر یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ہندوستان کے مسلمان سیاسی لیڈر برابر زور دے کر حج کے لئے جہاز روانہ کردار ہے تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے ایک مضمون میں (جو الفضل ۱۹۲۵ء کی تین اشاعتوں میں شائع ہوا) مسلمانوں کو مخلصانہ مشورہ دیا کہ فتنہ کے ان ایام میں حج کا ارادہ ملتوی کر دیں۔کیونکہ حج کی شرائط میں ایک اہم شرط امن کا وجود ہے جو موجودہ حالات میں مفقود ہے اس مشورہ کے ساتھ ہی حضور نے (امیرابن سعود اور شریف مکہ کی کشمکش اور عرب پر اس کے سیاسی اور تمدنی اثرات کا جائزہ لینے کے علاوہ بتایا کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میں جبکہ اسلام پر شرک کی گھٹائیں چھارہی تھیں " خدا تعالیٰ کی غیرت نے مختلف ممالک میں مختلف لوگ مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے پیدا کئے ہندوستان میں شاہ ولی اللہ صاحب پیدا ہوئے عرب میں خدا تعالٰی نے محمد بن عبد الوہاب کو چنا۔اس تفصیل کے بعد سعودی خاندان کی پوری تاریخ پر روشنی ڈالی اور سعودی حکومت کی نسبت یہ رائے دی کہ ہمارا پچھلا تجربہ بتاتا ہے کہ احمدیت میں جس قدر جلد وہابی داخل ہوتے ہیں اس قدر جلد کوئی دوسرا فرقہ مسلمانوں کا داخل نہیں ہوتا۔پس جماعت احمدیہ کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حجاز پر وہابیوں کی حکومت ہمارے لئے گو مشکلات بھی پیدا "