تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 554
تاریخ احمدیت جلد " 519 تھکان کی وجہ سے اعصاب کانپ رہے ہوتے ہیں اسی حالت میں نیند آجاتی ہے پھر صبح کی نماز کے بعد کام کا یہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح حضرت مسیح موعود کی تحریرات کے متعلق اہم اعلان انانی اید اللہ تعالی بصرہ العزیز نے مجلس شوری ( منعقدہ ۱۹۲۵ء) کے موقعہ پر یہ اہم اعلان فرمایا۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالی کی طرف سے آئے تھے۔محمد اس کا بروز ہو کر آئے تھے۔اس لئے آپ کے قلم سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ دنیا کی ساری کتابوں اور تحریروں سے بیش قیمت ہے اور اگر کبھی یہ سوال پیدا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر کی ایک سطر محفوظ رکھی جائے یا سلسلہ کے سارے مصنفین کی کتابیں ؟ تو میں کہوں گا آپ کی ایک سطر کے مقابلہ میں یہ ساری کتابیں مٹی کا تیل ڈال کر جلا دینا گوارا کروں گا۔مگر اس سطر کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی انتہائی کوشش صرف کر دوں گا " حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا چوتھا نکاح (حرم ثانی حضرت خلیفہ المسیح الثانی) حضرت امتہ الحی صاحبہ کی وفات سے جماعت میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا تھا۔جس کی وجہ یہ تھی کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے مد نظر احمدی خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک اہم سکیم تھی جو ان کی وفات سے درمیان میں ہی رہ گئی۔اگر آپ لاکھوں کی جماعت کے امام نہ ہوتے اور احمدی مستورات کی ترقی و بہبود اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری آپ پر عائد نہ ہوتی تو آپ کے لئے کسی اور نکاح کا خیال ہی دکھے ہوئے دل کو نھیں لگانے کے لئے کافی تھا کیونکہ جسمانی و مالی پہلو دونوں مخدوش اور سقیم تھے اور دو بیویاں اور بچے موجود تھے۔لیکن آپ محض مفاد سلسلہ کی خاطر تیسرے نکاح کے لئے آمادہ ہو گئے اور مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری سے ان کی دختر نیک اختر ساره بیگم صاحبہ کے لئے کم از کم تین سو مرتبہ استخارہ کر کے سلسلہ جنبانی شروع کیا۔آخر جب فریقین کی طرف سے معالمہ طے پا گیا تو ۱۲- ۱۳/ اپریل ۱۹۲۵ء کو مسجد اقصیٰ میں حضور کے اس مبارک نکاح کی تقریب عمل میں آئی۔حضور نے اپنا خطبہ نکاح خود پڑھا اور اس کے اغراض و مقاصد پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی۔جنگ عظیم کے خاتمہ پر تمام عرب ممالک سرزمین حجاز کی خانہ جنگی اور جماعت احمدیہ کی ایک وسیع مملکت بنانے کا جو وعدہ