تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 553
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 518 خلافت ثانیہ کا اگر قلیل التعداد فرقہ کثیر التعداد کے خلاف ہو تو اس کے لئے کوئی قانون اس کی مرضی کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔حضرت خلیفتہ المسیح مدرستہ الخواتین کا اجراء اور آپ کی مصروفیات میں اضافہ الثانی ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز نے احمدی خواتین کی علمی ترقی سے متعلق سفر یورپ کے دوران میں جو سکیم بنائی تھی۔اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے حضور نے ۱۷ / مارچ ۱۹۲۵ء کو ” مدرستہ الخواتین " کی بنیاد رکھی۔چونکہ قابل معلمات اس وقت موجود نہیں تھیں اس لئے خود حضور بھی طالبات کو پڑھاتے تھے چنانچہ آپ نے اپنی مصروفیات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے دسمبر ۱۹۲۵ء میں فرمایا۔میں صبح ناشتہ کے بعد مدرسہ خواتین میں پڑھاتا ہوں یہ ایک نیا مدرسہ قائم کیا گیا ہے۔جس میں چند تعلیم یافتہ عورتوں کو داخل کیا گیا ہے ان میں میری تینوں بیویاں اور لڑکی بھی شامل ہیں ان کے علاوہ اور بھی ہیں چونکہ ہمیں اعلیٰ تعلیم دینے کے لئے معلم عورتیں نہیں ملتیں اس لئے چکیں ڈال کر عورتوں کو مرد پڑھاتے ہیں۔آج کل میں ان عورتوں کو عربی پڑھاتا ہوں۔مولوی شیر علی صاحب انگریزی پڑھاتے ہیں اور ماسٹر محمد طفیل صاحب جغرافیہ - سوا گھنٹہ تک میں انہیں پڑھاتا ہوں۔اصل وقت تو ۴۵ منٹ مقرر ہے مگر سارے استاد اپنا کچھ نہ کچھ وقت بڑھا لیتے ہیں کیونکہ مقررہ وقت کم ہے اور تعلیم زیادہ اس کے بعد اس کمرہ میں جہاں کل دوست ملاقات کرتے ہیں جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔وہاں آکر میرا دفتری کام شروع ہوتا ہے۔۔۔اس وقت میں سلسلہ کے انتظامی کاموں اور کاغذات اور سکیموں کا مطالعہ کرتا ہوں اسی دوران میں دس بجے کے قریب ڈاک آجاتی ہے جن میں روزانہ۔۔۔۔۔سوسواسو خطوط ہوتے ہیں جو کم از کم دو اڑھائی گھنٹہ کا کام ہوتا ہے۔اس کے بعد میں کھانا کھانے جاتا ہوں پھر نماز ظہر کے لئے جاتا ہوں نماز پڑھانے کے بعد آکر سلسلہ کے کام جو سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں یا دفاتر کے کاغذات پڑھنے یا تدابیر سوچنے یا بعض علمی مضامین کے لئے مطالعہ کرتا ہوں۔۔۔۔اس کے بعد پھر عصر کی نماز پڑھانے کے بعد وہاں کچھ دیر دوستوں کے لئے بیٹھتا ہوں اور اگر درس ہو تو درس کے لئے چلا جاتا ہوں یا بیٹھ کر خطوط کے جواب لکھاتا ہوں کہ مغرب کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔وہ پڑھاتا ہوں اور اس کے بعد کھانا کھا کر عشاء کی نماز تک مطالعہ کرتا ہوں اور پھر عشا کی نماز کے بعد کام کے لئے اسی کمرہ میں چلا جاتا ہوں جہاں ابجے اور ۱۲ بجے تک ترجمہ قرآن کریم کا کام کرتا ہوں پھر علمی شوق کے لئے ذاتی مطالعہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔ساڑھے بارہ بجے یا ایک بجے تک یہ مطالعہ کرتا ہوں اس کے بعد جب بستر پر لیٹتا ہوں تو تھکان کی وجہ سے نیند نہیں آتی۔آنکھوں کے سامنے چیزیں ہلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔کیونکہ