تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 552
تاریخ احمدیت۔جلد ) 517 کی رفتار سے ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ سلسلہ میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے کہ جو اس کام کو جاری رکھ سکیں گے۔موجودہ حالت میں تو ہم یہ بھی امید نہیں کر سکتے۔پس جس طرح احباب سب چندہ دیتے ہیں۔اسی طرح ایک دو سال بھی اگر وہ سب اشاعت سلسلہ اور اخلاق کی درستی کی کوشش میں لگ جائیں جس کے ساتھ جماعت کے اندر ایک رو پیدا ہو جائے تو اس طرح ایسی تعداد پیدا ہو سکتی ہے کہ جو کام کو سنبھال سکیں"۔ان دنوں ملک میں فرقہ وارانہ نیابت کا سوال بہت فرقہ وارانہ نیابت کے سوال کا حل پیچیدہ صورت اختیار کر گیا تھا۔اس کے تصفیہ کے لئے سیاسی زعماء نے دہلی میں آل انڈیا پارٹی کا نفرنس بھی منعقد کی۔مگر کچھ فیصلہ نہ ہو سکا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ مسلمان اپنا یہ مطالبہ کہ ان کو بعض صوبوں میں ان کی تعداد سے زیادہ حق نیابت دیا جائے چھوڑ دیں۔مدر اس یا بہار میں اگر وہ چند ممبریاں زیادہ بھی حاصل کر لیں گے تو اس سے ان کو اتنا فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا جتنا کہ بعض صوبوں میں کثرت سے ہو سکتا ہے۔اور آئندہ نظام اس طریق پر قائم کیا جائے کہ ہر ایک قوم کو اس کی آبادی کے مطابق حق نیابت ملے۔صرف یہ رعایت ہو کہ جہاں قلیل التعداد اقوام کو نصف ممبری کا حق ملتا ہے وہاں ان کو ایک پوری ممبری کا حق دیا جائے بشر طیکہ آبادی کی کثرت قلت میں نہ بدل جائے۔اس ضمن میں دوسری اہم تجویز آپ نے یہ فرمائی کہ ہر قوم کا انتخاب اس کی اپنی قوم کے افراد کے ذریعہ سے کیا جاوے یعنی نہ صرف یہ شرط ہو کہ ہر ایک قوم کو اس کی تعداد کے مطابق نیابت دی جائے بلکہ یہ بھی شرط ہو کہ ہر قوم کے نمائندے صرف اس کے ووٹوں سے منتخب کئے جائیں ورنہ طاقتور اور ہوشیار قومیں دوسری اقوام کے ایسے ممبروں کے منتخب کرانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔جو اپنی قوم کا نمائندہ کہلانے کی بجائے دوسرے زبر دست یا زیادہ تعلیم یافتہ قوم کا نمائندہ کہلانے کا زیادہ حقدار ہو گا۔تیسری بات حضور نے سیاسی لیڈروں کے سامنے یہ پیش کی کہ ایسے قواعد تجویز کئے جائیں جن کی موجودگی میں کثیر التعداد قو میں اقلیتوں پر ظلم نہ کر سکیں۔پس آئندہ سمجھوتہ کی بنیاد ان شرائط پر ہونی چاہئے کہ (الف) ایک قوم دوسری قوم کے مخصوص تمدنی قوانین کے خلاف بھی قانون نہیں بنا سکتی اور نہ ان امور کے متعلق جو مابہ النزاع ہوں۔(ب) ایسے امور میں نہ صرف مذاہب کے کثیر التعداد فرقوں کے خیالات کا احترام کیا جائے گا بلکہ