تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 548
-f تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 513 ادارک کے موافق ہر اسلامی مسئلہ میں لب کشائی کر سکتا ہے۔اس لئے امید ہے کہ میری یہ مبادرت قابل عفو خیال کی جائے گی۔میرے پیش نظر سوالات ذیل ہیں۔کیا اسلام نے ارتداد کی سزا قتل رکھی ہے؟ کیا قتل و رجم مترادف ہیں؟ کیا احمدیت ارتداد ہے؟ (اس کے بعد آپ نے اس مسئلہ پر جو موافق و مخالف دلائل کا تجزیہ کیا اور آخر میں لکھا۔) "رجم مرتد کی تائید میں تو کوئی سند بھی موجود نہیں۔"قتل" مرتد کے باب میں کتاب و سنت خاموش ہیں بلکہ قرآن کریم میں جو رواداری عقائد کا اعلان عام کیا جا چکا ہے وہ فتویٰ جواز قتل مرتد کی گویا تردید کر رہا ہے۔صحابہ کرام کے طرز عمل سے باغیوں کے ساتھ قتال ثابت ہوتا ہے نہ کہ محض مرتدون سے۔آخر میں تیسرا مسئلہ یہ رہ جاتا ہے کہ آیا مرتد کا اطلاق احمدیوں پر صحیح ہے۔قرآن کریم کی اصطلاح میں مرتد تو شاید صرف اسے کہہ سکتے ہیں جو احکام خدایا احکام رسول سے منحرف ہو گیا ہو۔پھر کیا احمدیت کو کتاب و سنت کے کسی جزئیہ سے بھی انکار ہے جہاں تک میری نظر سے خود بانی سلسلہ احمدیہ جناب مرزا غلام احمد صاحب مرحوم کی تصانیف گزری ہیں ان میں بجائے ختم نبوت کے انکار کے اس عقیدہ کی خاص اہمیت مجھے ملی۔بلکہ مجھے ایسا یاد پڑتا ہے کہ احمدیت کے بیعت نامہ میں ایک مستقل دفعہ حضرت رسول خدا ان کے خاتم النبین ہونے کی موجود ہے۔مرزا صاحب مرحوم اگر اپنے تئیں نبی کہتے تھے تو اس معنی میں جس میں ہر مسلمان ایک آنے والے مسیح کا منتظر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں۔1 پس اگر احمدیت وہی ہے جو خود مرزا صاحب مرحوم بانی سلسلہ کی تحریروں سے ظاہر ہوتی ہے تو اسے "ارتداد " سے تعبیر کرنا بڑی ہی زیادتی ہے ان کی تحریروں سے تو محض اتنا ہی نہیں معلوم ہو تاکہ وہ توحید و رسالت کے پوری طرح قائل ہیں قرآن پر حرفاً حرفاً ایمان رکھتے ہیں کعبہ مومنین کو اپنا قبلہ سمجھتے ہیں بلکہ سردار کو نین اللہ کی ذات مبارک کے ساتھ محبت و شیفتگی بھی ٹپکتی ہے۔ان سے ہمارا جو کچھ اختلاف ہے وہ بعض احکام و ہدایات کی سوء تعبیر کی بناء پر ہے نہ کہ اغراض و انکار کی بناء پر۔اور سوء تعبیر ایسی شے نہیں جس کی بناء پر ارتداد و تکفیر کا حکم لگایا جا سکے "۔بالآخر یہ بتانا ضروری ہے کہ اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کے مشہور مخالف جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ایڈیٹر اخبار اہلحدیث نے بھی مسئلہ "قتل مرتد " کے بارے میں جماعت احمدیہ کے