تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 29
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 21 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت سے آپ کو بھیجا ہے چنانچہ سید نا حضرت امیر المومنین نے بچپن کا ایک واقعہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔میری عمر جب 9 یا دس برس کی تھی میں اور ایک اور طالب علم ہمارے گھر میں کھیل رہے تھے و ہیں ایک الماری میں ایک کتاب پڑی تھی جس پر نیلا جزدان تھا۔وہ ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی نئے نئے ہم پڑھنے لگے تھے اس کتاب کو جو کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ اب جبرئیل نازل نہیں ہو تا۔میں نے کہا یہ غلط ہے میرے ابا پر تو نازل ہوتا ہے مگر اس لڑکے نے کہا کہ جبرئیل نہیں آتا کیونکہ اس کتاب میں لکھا ہے ہم میں بحث ہو گئی۔آخر ہم دونوں حضرت صاحب کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔آپ نے فرمایا کہ کتاب میں غلط لکھا ہے جبرائیل اب بھی آتا ہے۔آپ کا ایک اور واقعہ بھی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔۱۶۲ ایک دفعہ حضرت صاحب کچھ بیمار تھے۔اس لئے جمعہ کے لئے مسجد میں نہ جاسکے۔میں اس وقت بالغ نہیں تھا۔کہ بلوغت والے احکام مجھ پر جاری ہوں۔تاہم میں جمعہ پڑھنے کے لئے مسجد کو آرہا تھا۔کہ ایک شخص مجھے ملا۔اس وقت کی عمر کے لحاظ سے تو شکل اس وقت تک یاد نہیں رہ سکتی۔مگر اس واقعہ کا اثر مجھ پر ایسا ہوا کہ اب تک مجھے اس شخص کی صورت یاد ہے۔محمد بخش ان کا نام ہے۔میں نے ان سے پوچھا آپ واپس آرہے ہیں کیا نماز ہو گئی ہے ؟ انہوں نے کہا آدمی بہت ہیں مسجد میں جگہ نہیں تھی۔میں واپس آگیا۔میں یہ جواب سن کر واپس آگیا اور گھر میں آکر نماز پڑھ لی۔حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر مجھ سے پوچھا۔مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں گئے۔خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں بچپن سے ہی حضرت صاحب کا ادب ان کے نبی ہونے کی حیثیت سے کرتا تھا۔میں نے دیکھا کہ آپ کے پوچھنے میں ایک سختی تھی اور آپ کے چہرہ سے غصہ ظاہر ہو تا تھا۔آپ کے اس رنگ میں پوچھنے کا مجھ پر بہت ہی اثر ہوا۔جواب میں میں نے کہا کہ میں گیا تو تھا لیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آگیا آپ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔لیکن اب جس وقت جمعہ پڑھ کر مولوی عبد الکریم صاحب آپ کی طبیعت کا حال پوچھنے کے لئے آئے تو سب سے پہلی بات جو حضرت مسیح موعود نے آپ سے دریافت کی وہ یہ تھی۔کہ آج لوگ مسجد میں زیادہ تھے ؟ اس وقت میرے دل میں سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی۔کیونکہ میں خود تو مسجد میں گیا نہیں تھا۔معلوم نہیں بتانے والے کو غلطی لگی یا مجھے اس کی بات سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔میں ان کی بات سے یہ سمجھا تھا کہ مسجد میں جگہ نہیں۔مجھے فکر یہ ہوئی کہ اگر مجھے غلط فہمی ہوئی ہے یا بتانے والے کو ہوئی ہے دونوں صورتوں میں الزام مجھ پر آئے گا۔کہ میں نے جھوٹ بولا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے جواب دیا۔ہاں حضور آج واقعہ میں بہت لوگ تھے۔میں اب بھی نہیں جانتا کہ اصلیت کیا تھی خدا نے میری بریت کے لئے یہ سامان کر دیا کہ مولوی صاحب کی زبان سے بھی اس کی تصدیق کرا