تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 539
504 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال تاریخ احمدیت۔جلد ۴ ۱۷۳- اخبار حقیقت کائل (جلد اشماره صفحه ۴) بحواله الفضل ۱۸/ ستمبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۵- عدالت عالیہ کے فاضل جج نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی لکھا کہ ملزم چونکہ اہل السنت و الجماعت کے ان علماء کو جنہوں نے مسئلہ نزول مسیح کو جسمانی صورت میں بتایا ہے غلطی خوردہ سمجھتا ہے اس لئے یہ خادم شرع شریف اس فیصلہ کا حکم درست سمجھتا ہوا اس کی تصدیق کرتا ہے"۔(ترجمہ) ۱۷۴ - الفضل ۱۳/ ستمبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۱۔۱۷۵ بحوالہ الفضل ۲۸/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۱۔١٧٦- بحواله الفضل ۱۶ نومبر ۱۹۲۳ء صفحہ ۷۔۷۷- سید نا حضرت خلیفہ ثانی کے ایک مفصل مضمون مطبوعه الفضل ۲۵/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۳-۴ سے ماخوذ ۱۷۸ بحواله الفضل ۳/ اکتوبر ۱۹۲۳ء صفحه ۲ ۱۷۹۔بعض متعصب اخباروں نے اس فعل پر پردہ ڈالنے کے لئے شہید احمدیت مولوی نعمت اللہ خاں کو سیاسی مجرم گرداننے کی کوشش کی۔مگر افغان عدالت کے فیصلہ نے اس کی تغلیط کردی۔اخبار ڈیلی میل کے نامہ نگار نے کابل سے اطلاع دی کہ مولوی نعمت اللہ کی سنگساری کے عدالتی فیصلہ کے بعد امیر نے ملکی دستور کے مطابق اس فیصلہ کی بذات خود تصدیق کی جس کے بعد یہ عمل میں لایا گیا۔(الفضل ۲۸/ اکتوبر ۱۹۲۴ء) ١٠- الفضل ۹/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۷۔۱۸۱ بحواله الفضل ۲۳/ ستمبر ۱۹۲۴ء صفحه ۵ -۱۸۳ بحواله الفضل ۳۰ ستمبر ۱۹۲۴ء صفح ۰۷ ۱۸۳- الفضل ۱۶/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۲- ۱۸۴- الفضل ۶/ نومبر ۱۹۲۳ء صفحہ ۷۔۸۵ الفضل ۷ / اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۰۸ ۱۸۶ بحواله الفضل ۲۵/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۸ ۱۸۷ الفضل ۷ / اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۸ ۱۸۸- بحوالہ الفضل یکم نومبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۱۰ الفضل ۲۳/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۹ -190 بحواله الفضل ۱۵/ جنوری ۱۹۲۵ء صفحه ۴ 19- الفضل ۱۶/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۲- زمیندار ۲۱ ستمبر ۰۶۱۹۲۴ ۱۹۳ - الفضل / ستمبر ۱۹۲۳ء- ۱۹۴۔یا ر ہے یہ متولف اصحاب احمد نہیں۔کوئی اور صاحب تھے۔۱۹۵- الفضل ۲۳/ ستمبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۲۰۱) تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو حیات ناصر مؤلفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ) - الفضل ۲۰/ د سمبر ۱۹۲۴ء صفحه ۶ - ۱۹۷ اردو انسائیکلو پیڈیا صفحہ ۳۱ شائع کردہ فیروز سنز لا ہور۔۱۹۸ مسلمانان ہند کی حیات سیاسی صفحه ۵۲ از محمد مرزا د لوی طبع اول مارچ ۱۹۴۰ء ۱۹۹ ولادت ۲۵ دسمبر ۱۸۷۷ء بمقام کراچی ۱۸۹۶ء میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا ہے ۱۸۹ء میں بمبئی ہائیکورٹ میں مقدمات کی پیروی شروع کی ۱۹۰۵ء میں کانگریس کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا ۱۹۱۶ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے ۱۹۲۱ ء میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کی ۱۹۴۰ء میں مسلم لیگ کے اجلاس لاہور میں پاکستان کی تجویز منظور کرائی ۱۹۴۱ء سے ۱۹۴۷ء تک حصول پاکستان کے لئے شب و روز کوشاں رہے ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کے پہلے گورنر جنرل بنائے گئے اور گیارہ تمبر ۱۹۴۸ء کو کراچی میں وفات پائی۔