تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 486
تاریخ احمدیت جلد ۴ 462 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال اس نے ہر قدم پر ہماری نصرت فرمائی اور ہمارے لئے ایسے اوقات میں دروازے کھولے جب کہ ہمیں کوئی رستہ نظر نہیں آتا تھا۔میں تمام احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے آقا و مولی کے اس خاص فضل کو یاد رکھیں اور اپنے آپ کو ان بڑی قربانیوں کے لئے تیار کریں جو انہیں ان اثمار کے حاصل کرنے کے لئے کرنی پڑیں گی۔جو گزشتہ چار ماہ کے کام کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والے ہیں۔اللہ تعالٰی ہم سب پر اپنی برکات نازل فرمائے۔et بمبئی سے بٹالہ تک حضور ۲۰/ نومبر ۱۹۲۴ء کو بمبئی سے بی بی اینڈ سی آئی ریلوے کے ذریعہ روانہ ہو کر اگلے دن ۲۱ نومبر ۱۹۲۴ء کو آگرہ پہنچے۔آگرہ آتے ہوئے / آپ نے اکران کا مشہور مقام دیکھا جو مائی جمیا کا گاؤں اور جماعت احمدیہ کے معرکہ جہاد کا اہم میدان رہا ہے۔آگرہ اسٹیشن پر آپ کا مخلصانہ استقبال کیا گیا۔مرزا عرفان علی بیگ صاحب نے آپ کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے۔صوفی محمد ابراہیم صاحب بی ایس سی امیر المجاہدین آگرہ کی طرف سے اخبار الفضل ۶/ دسمبر ۱۹۲۴ء صفحہ ے پر حسب ذیل خبر شائع ہوئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا و رود آگرہ میں ۱۲۱ نومبر بوقت ۱۸ بجے شام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی مع خدام آگرہ فورٹ پر گاڑی سے اترے جہاں سلسلہ احمدیہ کے قریباً ایک سو قائمقاموں نے جو یوپی کے مختلف مقامات سے جمع ہوئے تھے مع چند رؤساء قریباً چالیس غیر احمدی پنجابی تاجروں کے استقبال کیا۔حضور کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے۔حضور نے سب لوگوں کو مصافحہ سے مشرف کیا۔پھر مع خدام الاحمدیہ دار التبلیغ میں تشریف لائے۔آتے ہی حضور نے نمازیں ادا کیں اور علاقہ مین پوری کے چند مہمانوں کی بیعت لی۔پھر کھانا تناول فرمایا اور مجاہدین و جماعت احمدیہ آگرہ کی طرف سے مولوی غلام احمد صاحب مولوی فاضل نے ایڈریس پیش کیا جس کے جواب میں حضور نے اپنی کامیابی کو محض فضل الہی سے ثابت کرتے ہوئے جماعت کو آئندہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی تلقین فرمائی اور مزید قربانیوں کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا۔اگلی صبح حضور کا مع خدام فوٹو لیا گیا اور موٹر پر تاج محل کو دیکھتے ہوئے موضع ساند ھن تشریف لے گئے "۔۲۲ نومبر کو حضور ملکانہ تبلیغ کا بہت بڑا مرکز ساند ھن دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے یہاں کل انتظام ملکانوں نے کیا تھا۔بڑے شاندار دروازے بنائے گئے تھے جن میں سے ایک پر "غلام احمد کی جے "کا فقرہ لکھا ہوا تھا۔حضور کی خدمت میں ایک ایڈریس بھی پیش کیا گیا۔جس کا حضور نے جواب دیا۔