تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 485
تاریخ احمدیت جلد ۳ 461 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال لنڈن سے روانگی اور بمبئی میں ورود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۴/ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو مسجد فضل لنڈن میں پہلا جمعہ پڑھایا۔اور لنڈن سے روانگی سے پہلے حضور نے فرمایا۔میرے نزدیک انگلستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔آسمان پر اس کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اپنے وقت پر اس کا اعلان زمین پر بھی ہو جائے گا۔دشمن ہنسے گا اور کہے گا یہ بے ثبوت دعوئی تو ہر ایک کر سکتا ہے مگر اس کو ہنسنے دو کیونکہ وہ اندھا ہے اور حقیقت کو دیکھ نہیں سکتا۔حضور ۲۵/ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو لندن سے روانہ ہوئے۔واٹر لو اسٹیشن پر (جہاں سے حضور مع خدام گاڑی پر سوار ہوئے) بہت سے یورپین مردوں اور عورتوں کے علاوہ ہندوستانی اور افریقن لوگ بھی الوداع کرنے کے لئے موجود تھے۔نہایت محبت آمیز مصافحوں کے بعد ہر ایک نے خدا حافظ کہا اور فوٹوگرافروں نے فوٹو لئے۔لنڈن سے گاڑی ساؤتھ ٹین پہنچی۔جہاں سے حضور معہ رفقاء نے رات کے بارہ بجے بحری جہاز سے رودبار انگلستان عبور کی اور ۲۶/ اکتوبر کو ساڑھے آٹھ بجے کی گاڑی سے سوار ہو کر پیرس پہنچے۔پیرس میں حضور کا قیام بہت مختصر تھا جو بہت کامیاب رہا۔روزانہ اخبارات کے نمائندے ملاقات کے لئے آئے۔پیرس کی سرکاری نو تعمیر مسجد میں پہلی نماز حضور نے پڑھائی۔پریس کے نمائندوں اور سینما کی کمپنیوں نے فوٹو لئے جو روزانہ اخبارات میں شائع ہوئے۔حضور ۳۱ اکتوبر کو پیرس سے روانہ ہوئے۔۲/ نومبر کی رات کو دنیس (اٹلی) سے جہاز پر سوار ہو کر ۱۸/ نومبر ۱۹۲۴ء کو ہیٹی کے ساحل پر اترے۔جماعت احمدیہ کے قریب دو سو نمائندوں نے جو ہندوستان کے مختلف حصوں سے تشریف لائے تھے۔حضور کا نہایت گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا اور پریس کے نمائندوں نے فوٹو لئے۔ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے تمام جماعت احمد یہ ہندوستان کی طرف سے حضور کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا۔یہاں سے حضور لیاقت منزل میں پہنچے اور جناب سید محمد رضوی صاحب کے ہاں فروکش ہوئے۔بمبئی کے تمام اخبارات کے نمائندوں نے حضور سے سفریورپ کے حالات دریافت کرنے کے لئے ملاقات اور گفتگو کی۔سمیٹی میں بخیر و عافیت پہنچنے پر حضور نے جماعت احمدیہ کے نام برقی پیغام ارسال فرمایا کہ - میں اپنی طرف سے اور اپنے رفقاء سفر کی طرف سے تمام احباب جماعت کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمارے مشن کی کامیابی کے لئے دعائیں کیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ حیرت انگیز کامیابی جو ہمیں اس سفر کے دوران میں حاصل ہوئی محض اللہ تعالی کے فضل و کرم کی وجہ سے تھی۔