تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 484 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 484

تاریخ احمدیت جلد ۴ 460 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال چکا ہے۔اس تقریب پر جاپان اور جرمنی کے سفیر ڈینڈ زور تھ کے رئیس استھونیا کا وزیر اور ترکی اور البانیہ کے نمائندے بھی شامل تھے۔( ترجمہ ) ویسٹ منسٹر گزٹ " نے لکھا۔" ایک مسجد جو لنڈن میں پہلی مسجد ہو گی۔سو تھ فیلڈ ز میں تعمیر کی جائے گی۔جس کا مینار سترفٹ بلند ہو گا۔جہاں سے ایک موذن مومنوں کے لئے نماز کے وقت کا اعلان کرے گا۔سنگ بنیاد کل ایک باغیچہ میں رکھا گیا۔پھلدار درختوں میں خوشبو کا نیلا نیلا دھواں اٹھتا دکھائی دیتا تھا۔گیلی زمین پر قالین بچھائے گئے۔اور اس مجمع میں مختلف اقوام کے لوگ شامل تھے۔ہز ہولی نس خلیفتہ المسیح نے یہ رسم ادا کی۔آپ نے قرمزی رنگ کے کفوں والا گلابی رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا سر پر ایک بھاری سفید عمامہ تھا اور ہاتھ میں ایک عصا جس کے سر پر آبنوس اور چاندی لگی تھی۔انہوں نے فرمایا کہ " میں میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی اور جماعت احمدیہ کا امام جس کا مرکز قادیان پنجاب ہندوستان میں ہے۔آج ۲۰/ ربیع الاول ۱۳۴۳ھ کو خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھتا ہوں کہ لنڈن میں اس کے نام کا جلال ظاہر ہو اور تاکہ اس ملک کے لوگ بھی ان برکات سے حصہ لیں جو ہمیں عطا کی گئی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ تقریب تو انسان کی اخوت اور وحدت کا ایک نشان ہے یہ ضروری نہیں ہے کہ اختلاف رائے سے تفرقہ پیدا ہو۔عرب کا مقدس نبی فرماتا ہے کہ اختلاف رائے رحمت کا ایک سرچشمہ ہے کیونکہ اس سے علم اور حکمت کی ترقی میں مدد ملتی ہے رواداری اور عالی حو صلگی صرف اختلاف رائے کے مدرسہ میں سیکھی جاسکتی ہے۔ہر ہولی نس کی رائے میں وہ دن دور نہیں جبکہ لوگ جنگ کے خیالات کو ترک کر دیں گے اور بھائیوں اور بہنوں کی طرح ایک ہی خالق کے بندہ ہو کر اتفاق سے زندگی بسر کریں گ۔۔۔امام مسجد مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے بیان کیا کہ ایک دن مشرق مغرب مل جا دیں گے۔۔۔۔۔یہ سلسلہ جو کہ اسلام میں پہلا تبلیغی سلسلہ ہے۔انگلستان کو ایشیا سے اور خصوصاً ہندوستان سے زیادہ قریب کر دے گا۔انگلستان میں یہ پہلی مسجد ہے جس کو صرف مسلمانوں نے تعمیر کیا ہے مسٹری اپیچ روشر مسجد کے انجینئر نے ہمارے نامہ نگار سے بیان کیا کہ وہ ایک وقت سلطان مراکش کے انجینئر تھے اس کی عمارت اپنی شکل میں شرقی طرز کی ہوگی یہ سلسلہ احمدیہ کی تعمیر کردہ مسجد ہو گی جن کا عقیدہ ہے کہ الہام کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔وہ مذہبی جنگوں کے خلاف ہیں اور رواداری کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ ہمار ا سلسلہ دنیا کو نبی عربی ( ) کے خالص دین کی طرف واپس بلاتا ہے۔