تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 439
تاریخ احمدیت جلد ۴ 431 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال علمی کام جاری رکھنے کے لئے حضور نے ہدایت جاری فرمائی کہ مکرم مولوی شیر علی صاحب درس قرآن اور مولوی سید سرور شاہ صاحب درس بخاری دیں اور یہ دونوں درس مسجد اقصیٰ میں باری باری ہوں۔حضرت مولوی شیر علی صاحب ناظر اعلیٰ کی حیثیت میں کام کر رہے تھے۔اب جدید انتظام کے بعد حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کو (حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب کی حج سے واپسی تک) ناظر اعلیٰ مقرر فرمایا گیا۔حضور نے ڈاک کا یہ انتظام فرمایا کہ آپ کے نام خطوط قادیان کے پتہ پر لکھے جائیں اور مرکز سے ہفتہ کی ڈاک کا اکٹھا پارسل بنا کر حضور کے نام بھیج دیا جائے۔جتنی جلدی اس عظیم الشان سفر کی تیاری ہوئی شائد اس کی مثال سفریورپ کے لئے تیاری پہلے دنیا میں ہمت ہو چھ ہزار میل کاسفر اور صدیوں کی تبلیغ کے لئے سکیم بنانے کی تجویز اور حالت یہ کہ سفر کے شروع ہونے تک حضور کو کسی امر کے سوچنے کے لئے یکسوئی کے لمحات میسر نہیں آسکے۔۹-۱۰ جولائی ۱۹۲۴ء کی رات کے گیارہ بجے کا نفرنس والا مضمون ہی ہمشکل ختم ہوا۔اور ۱۲ جولائی حضور کی روانگی کی تاریخ تھی۔اس لحاظ سے 10 او ر ا / جولائی کے صرف دودن فراغت کے مل سکے۔جن میں حضور نے اپنے بعد قادیان میں انتظام کا فیصلہ کیا۔لائبریری میں سے ضروری کتابیں نکلوائیں اور دوسرے لوگوں کی مستعار کتابیں واپس کیس - 11 جولائی ۱۹۲۴ء کے دن حضور کی مصروفیت جولائی ۱۹۲۴ء کا مصروف ترین دن انتہاء تک پہنچ گئی۔حضور صبح کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر دعا کے لئے تشریف لے گئے۔حضور نے مزار کے مشرقی دروازہ میں کھڑے ہو کر دیر تک دعا فرمائی پھر جنوب کی طرف موضع ننگل میں سے ہوتے ہوئے موضع کا ہلواں کے پاس سڑک تک گئے اور دوسرے رستہ پر لوٹ کر دوبارہ مقبرہ بہشتی میں پہنچے اور مزار اقدس پر دوبارہ دعا فرمائی اس وقت بھی حضور کی مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ چلتے چلتے ایک مجاہد کو جو حضور کے ساتھ ہی دور دراز ملک کے لئے روانہ ہو رہے تھے نہایت اہم اور ضروری امور کے متعلق نوٹ اور ہدایات لکھواتے رہے۔مقبرہ بہشتی سے واپسی کے بعد حضور گھر تشریف لے گئے اور پھر جمعہ پڑھایا جس میں مقامی انتظام کی تفصیل بیان فرمائی۔نماز جمعہ کے بعد دیر تک بیرونی احباب سے مصافحہ فرماتے رہے۔عصر کی نماز حضور نے مسجد مبارک میں پڑھائی اور پھر مسجد اقصیٰ میں تشریف لے گئے جہاں ایک