تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 438
430 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال تاریخ احمدیت۔جلد ۴ یہ نیا مضمون جو " سلسلہ احمدیہ " (Ahmadiyya Movement) کے عنوان سے تھا پایہ تکمیل کو پہنچا۔اور پھر اسی کا خلاصہ کا نفرنس میں پڑھا گیا۔"احمدیت یعنی حقیقی اسلام " کو چند دنوں میں تصنیف ہوئی۔مگر اس میں حضور نے خدا کے فضل سے احمدیت کے نقطہ نگاہ سے اسلام کی دلکش اور جامع تصویر رکھی اور مکمل نقشہ مغربی دنیا کے سامنے کھینچ دیا اور اللہ تعالٰی سے تعلق سے متعلق اسلامی نظریہ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے پہلے یہ بتایا کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس کے ذریعہ سے عظیم خدا کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے اور وہی وہ مذہب ہے جس کے ذریعہ سے انسان خدا تعالی سے تعلق پیدا کر سکتا ہے "۔پھر حضور نے اسلام کے نظام اخلاق نظام تمدن اور نظام ملکی پر قلم اٹھانے کے بعد یہ عظیم الشان انکشاف فرمایا کہ قرآن مجید نے آج سے چودہ سو سال پہلے جبکہ لیگ آف نیشنز کا کوئی خیال بھی نہیں پایا جاتا تھا۔بین الا قوامی سطح پر ایک اسلامی جمعیتہ الا قوام کا خاکہ پیش کر رکھا ہے اور جب تک اس کے مطابق لیگ کی تشکیل نہیں ہو گی دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔حضور کی یہ پیشگوئی کس طرح آج تک حرف بحرف پوری ہو رہی ہے۔اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام" اور "سلسلہ جماعت احمدیہ کے لئے نیابتی انتظام " کا انگریزی ترجمہ مکمل ہوتے ہی حضور نے احمدی فوری طور پر جس اہم امر کی طرف توجہ فرمائی۔وہ قادیان میں نیابتی انتظام کا قیام تھا۔چنانچہ حضور نے اپنے بعد حضرت مولوی شیر علی صاحب کو امیر اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کو ان کا نائب مقرر فرمایا۔ان کے علاوہ ایک مجلس شوری مقرر فرمائی جس کے چودہ ممبر یہ قرار دیئے۔حضرت حجتہ اللہ نواب محمد علی خان صاحب حضرت میر محمد الحق صاحب حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب حضرت قاضی امیر حسین صاحب حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب حضرت ماسٹر عبد المغنی خان صاحب حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب حضرت مولوی فضل الدین صاحب وکیل۔حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل - حضرت میر قاسم علی صاحب حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل - شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر" نور "۔خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر " الفضل " حضور نے ان تمام اصحاب کے تقرر پر ۱۱/ جولائی ۱۹۲۴ء کو ایک خطبہ بھی دیا۔جس میں ہر ایک کا نام لے کر ان کی مخلصانہ خدمات کا نہایت تعریفی کلمات میں ذکر کر کے بتایا کہ موجودہ حالات میں یہ لوگ میرے نزدیک بہترین مشیر ہیں۔