تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 408 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 408

تاریخ احمدیت جلد ۳ 400 خلافت ثانیه کار سواں سال جرمنی میں تعمیر مسجد کا کام بند کر دینا پڑا۔مگر احمدی خواتین کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔بلکہ ان کے چندہ سے لندن میں مسجد تعمیر ہوئی۔جو یورپ میں جماعت احمدیہ کی سب سے پہلی مسجد ہے۔کو نسلوں میں انتخابات ہونے ہندو مسلم امور میں جماعت احمدیہ کا سیاسی موقف والے تھے اس مرحلہ پر صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے ۷ / اگست ۱۹۲۳ء کو ایک مفصل اعلان میں بتایا گیا کہ کو نسلوں میں جماعت احمدیہ کا کون نمائندہ ہو سکتا ہے؟ اس سلسلہ میں بعض بنیادی شرائط کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر جماعت احمدیہ کی سیاسی پالیسی واضح کی گئی کہ ہم یہ امر ہرگز تسلیم نہیں کرتے کہ ہندو مسلم اتحاد کے یہ معنے ہیں کہ مسلمان اپنی جداگانہ ہستی مٹا کر ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے ہر ایک حق اپنا چھوڑ دیں۔ہمارے نزدیک مسلمانوں کی قومی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے یہ اشد ضروری ہے کہ مسلمانوں کے کھوئے ہوئے حقوق واپس لئے جائیں اور مسلمانوں کو کونسلوں اور محکمہ جات میں ان کے تناسب آبادی کے مطابق حصہ ملے۔مثلاً پنجاب میں مسلمان زیادہ ہیں تو ان کو کونسلوں اور محکموں میں زیادہ آسامیاں ملنی چاہیں یہ حق اس وقت تک غصب کیا گیا ہے اور ہمارے نزدیک ایک ایک منٹ جو اس نقص کی اصلاح کے بغیر گزر رہا ہے اس سے مسلمانوں کی قومی موت قریب سے قریب تر آرہی ہے" بالشویک علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ سید نا ضرت علینہ اسی الثانی المصلح الموعود کے قلم مبارک سے اخبار الفضل ۱۹/ اگست ۱۹۲۳ء کو حسب ذیل مضمون سپر د اشاعت ہوا۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر بولشویک علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ الله الحمد ہر آن چیز که خاطر میخواست آخر آمد از پس پردہ تقدیر پدید ۱۹۱۹ء کا واقعہ ہے جسے میں پہلے بھی بعض مجالس میں بیا نکر چکا ہوں کہ ایک احمدی دوست اللہ تعالٰی ان کو غریق رحمت کرے جو انگریزی فوج میں ملازم تھے اپنی فوج کے ساتھ ایران میں گئے۔وہاں سے