تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 407 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 407

تاریخ احمدیت جلد ۴ 399 خلافت ثانیہ کا دسواں سال مبارک خواتین سے اپنی قربانی میں پیچھے نہیں رہے۔حضرت ام ناصر کو حضور کی طرف سے ایک رقم ملی تھی جس کا نصف آپ نے وصیت میں اور باقی اس تحریک میں دے دیا۔حضرت امتہ الحی صاحبہ نے ایک سو روپیہ پیش کیا۔حضرت ام طاہر نے اپنا ایک گلو بند بھی دیا اور کچھ نقدی بھی۔قادیان کی دوسری احمد کی خواتین میں سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔حضرت قاضی امیر حسین صاحب کے گھر والوں اور حامدہ بیگم صاحبہ (دختر حضرت پیر منظور محمد صاحب) نے نمایاں حصہ لیا۔ایک نہایت غریب و ضعیف ہیوہ جو پٹھان اور مہاجر تھی اور سونٹی لے کر بمشکل چل سکتی تھی خود چل کر آئی اور حضور کی خدمت میں دو روپے پیش کر دیئے۔یہ عورت بہت غریب تھی اس نے دو چار مرغیاں رکھی ہوئی تھیں جن کے انڈے فروخت کر کے اپنی کچھ ضروریات پوری کیا کرتی تھی۔باقی دفتر کی امداد پر اس کا گزارہ چلتا تھا۔ایک پنجابی بیوہ عورت نے جس کے پاس زیور کے سوا کچھ نہ تھا اپنا ایک زیور مسجد کے لئے دے دیا۔ایک اور بیوہ عورت جو کئی یتیم بچوں کو پال رہی تھی اور زیور اور مال میں سے کچھ بھی پیش کرنے کے لئے موجود نہ تھے اپنے استعمال کے برتن ہی چندہ میں دے دیئے۔ایک خاتون نے اپنا زیور چندہ میں دے دیا تھا دوبارہ گھر گئی کہ بعض برتن بھی لا کر حاضر کر دوں۔اس کے خاوند نے کہا کہ تو زیور دے چکی ہے اس نے جواب دیا کہ میرے دل میں اس قدر جوش پیدا ہو رہا ہے کہ اگر خدا اس کے دین اور اس کے رسول کے لئے ضرورت پیش آئے (اور ایسا ممکن اور جائز ہو) تو میں تجھے بھی فروخت کر کے چندہ میں دے دوں یہ الفاظ کو ہرگز قابل تعریف نہ تھے نہ شرعانہ اخلا قا مگر ان سے اس جوش کا ضرور اندازہ ہو سکتا ہے۔جس نے ایک غیر تعلیم یافتہ عورت کا جذ بہ فدائیت ان الفاظ میں ظاہر کر دیا۔ایک بھاگلپوری دوست کی بیوی دو بکریاں لئے الدار میں پہنچی اور کہا کہ ہمارے گھر میں ان کے سوا کوئی چیز نہیں۔یہی دو بکریاں ہیں جو قبول کی جائیں۔قادیان کے باہر کی مستورات نے بھی قربانی کے قابل رشک اور قابل فخر نمونے دکھائے چنانچہ المیہ صاحبہ کپتان عبد الکریم صاحب ( سابق کمانڈر انچیف ریاست خیر پور) نے اپنا کل زیور اور اعلی کپڑا چندے میں دے دیا۔اس قسم کے اخلاص کا نمونہ چوہدری محمد حسین صاحب صدر قانونگو سیالکوٹ۔سیٹھ ابراہیم صاحب خان بہادر محمد علی خاں صاحب اسٹنٹ پولٹیکل افسر چکدرہ (بنوں) حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری ، ڈاکٹر اعظم علی صاحب جالندھری، خان بهادر صاحب خان نون اکسترا اسٹنٹ کمشنر ، حضرت ڈاکٹر قاضی کرم الہی صاحب امیر جماعت امرتسر ( والد ماجد قاضی محمد اسلم صاحب) میاں محمد دین صاحب واصل باقی نویس کے خاندان کی مستورات نے بھی دکھایا ma افسوس جرمنی کی غیر مستقل سیاسی صورت حال اور بعض دوسری ناگزیر مشکلات کی وجہ سے