تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 387
احمدیت جلد ۴ 379 خلافت ثانیه دسواں سال اسلام" کے مقابلہ پر ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو اس میدان میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔میں نہ تو خود احمدی ہوں اور نہ میرا کوئی رشتہ دار احمدی ہے نہ اس ملک کا رہنے والا ہوں جہاں احمدیوں کی آبادی ہے لیکن ان کے کام کے طریق ان کی سرگرمی ان کے اخلاص ، ان کی تندہی اور جفاکشی سے کام کرنے کی حالت کا اندازہ کر کے مجبور ہوں کہ تمام اہل اسلام سے کہہ دوں کہ وہ ان حضرات کی مخالفت کو چھوڑ دیں۔ان ہی لوگوں کے اخلاق ایسے ہیں جو جاہل اور اکھڑ ملکانوں کو آریہ ہونے سے باز رکھ سکتے ہیں اس کے برخلاف ہماری انجمنوں کے مبلغین ۵۵ کی تعداد میں وہاں گئے تھے جن میں سے اکثر شب برات کے حلوے کھانے اور عرس کرنے کے لئے واپس آچکے ہیں اور باقی جو ہیں وہ رمضان میں واپس گھر پہنچنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ایسی صورت میں آپ لوگ خیال کریں ان لوگوں سے کیا امید ہو سکتی ہے ؟ اس لئے جو جماعت کام کرتی ہے اس کے رستے سے تمام رکاوٹیں دور کی جائیں" رمضان گزرنے کے بعد علمائے کرام پھر میدان ارتداد میں آموجود ہوئے اور آریہ کی بجائے ایک دوسرے سے پھر الجھنے لگے اور خصوصاً احمدیوں کے خلاف تو محاذ قائم کر لیا۔جس پر اخبار "زمیندار" (۱۷/ مئی ۱۹۲۳ء) نے " مجلس نمائندگان تبلیغ" اور دوسری جماعتوں کو شرم دلائی کہ۔اگر چه سوامی شردھانند آریہ سماجی ہیں لیکن آریہ سماج کی جماعتوں کے علاوہ سناتن دھرم اور جینی وغیرہ بھی ان کے شریک کار ہیں اور آج تک ان لوگوں میں اختلاف کی ایک آواز بھی بلند نہیں ہوئی۔سناتن دھرم والوں نے کبھی شکایت نہیں کی کہ سوامی شردھانند مکانوں کو آریہ بنارہے ہیں۔پر تاپ کیسری اور تیج کے فائل اٹھا کر دیکھئے۔ہم دعوئی سے کہتے ہیں کہ آپ کو ایک تحریر ایک خبر ایک اطلاع ایک مراسلہ بھی ایسا نہ ملے گا جس سے ہندو مبلغین کا ذرہ برابر باہمی اختلاف ظاہر ہو لیکن "زمیندار"۔"سیاست"۔"وکیل" اور دوسرے اسلامی اخبارات کی جلد میں پڑھئے تو آپ پر بار بار اس افسوسناک حقیقت کا انکشاف ہو گا کہ ایک انجمن دوسری انجمن کو حلقہ ارتداد میں کام کرتے دیکھنا گوارا نہیں کرتی۔خدا کا کام ہے لیکن بندوں نے اسے ذاتی اختلاف اور ذاتی شہرت پسندی کی جولانگاہ بنا رکھا ہے۔کیا یہ سر پیٹنے کا مقام نہیں؟ ہم مجلس نمائندگان تبلیغ “ اور دوسری تمام تبلیغی انجمنوں کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر احمدی مبلغین ملکانوں کو احمدی بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو مڑنے کا کوئی حق نہیں۔جس طرح آپ ان کو منفی و اہلحدیث بنانے کا حق رکھتے ہیں احمدی مبلغین ان لوگوں پر اپنا کیش دن جب پیش کرنے میں آزاد ہیں اور ہندو ہو جانے سے ہزار درجے بہتر ہے کہ ایک مسلمان احمدی ہو جائے سیاسی نقطہ نگاہ سے بھی دیکھ لیجئے۔اگر چھ لاکھ ملکانے مسلمانوں